سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 550

سَت بچن — Page 244

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۴۴ ست بچن ★ ۱۲۰ پھیر ہندواں اک چادر لے کے بہان میں رکھ کے چکھا میں جلائی تے مسلماناں ★★ پھر ہندوؤں نے ایک چادر لے کر اور سیڑہی پر رکھ کر چکھا میں جلا دی اور مسلمانوں ادھی چادر دفن کیتی۔ دوہاں آپو اپنے دھرم کرم کیتے تے نے نصف چادر لے کر دفن کر دی اور دونو فریق نے اپنی اپنی رسم کے موافق تجہیز تکفین کی یعنی بابا جی بیکنٹھ کو سندھ گئے تے سری بابے جی دے چلانے ے مذہبی واجبات جنازہ وغیرہ بجالائے اور باوا صاحب معہ جسم کے بہشت میں داخل ہو گئے ہیں اور ایک سکھ نے جس کا دی کتھا بڑھے نے سری انگر جی تے بالے کو ہور سنگت کے حضور سنائی نام بڑھا تھا باوانا تک صاحب کے فوت ہونے کی کتھا انگر صاحب اور بالا صاحب کو دوسرے مجمع کے حضور سنائی دیکھو جنم ساکھی کلاں بھائی بالے والی صفحہ ۶۱۷ اپنے باوانا تک صاحب کے اسلام پر اسلام کے مخالفوں کی شہادتیں برگ صاحب ترجمه سیر المتأخرین جلد اول صفحہ ۱۱۰ کے ایک نوٹ میں لکھتے ہیں کہ بابا نانک نے اپنی ابتدائی عمر میں ایک اسلامی معلم سے تعلیم پائی اور ایک شخص سید - ور ایک حص سید حسین نام نے بابا نانک کے ایام نوٹ یہ تعلیم بالکل قرآن شریف کی تعلیم ہے کہ جسم کے ساتھ انسان بہشت میں داخل ہو گا لیکن وید کی تعلیم بالکل اس کے برخلاف ہے کیونکہ وید کی رو سے صرف روح کو مکتی ملتی ہے اور جسم مکتی خانہ میں داخل نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے ہندو لوگ جسم کو جلا دیتے ہیں کیونکہ اُن کے نزدیک اُس کا تعلق مرنے کے ساتھ بالکل ختم ہو جاتا ہے لیکن مسلمان اپنے مُردوں کو دفن کرتے ہیں کیونکہ اسلامی تعلیم کے رو سے جسم کا روح سے تعلق باقی رہتا ہے اور وہ ابدی تعلق ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگا اسی تعلق کی وجہ سے بہشت میں بہشتیوں کا جسم لذت میں شریک ہو جائے گا اور دوزخ میں دوزخیوں کا جسم عذاب میں شریک ہوگا اور باوا صاحب نے جو مسلمانوں کی مقابر پر چلہ کشی کی یہ بھی صاف دلیل اس بات پر ہے کہ با واصاحب اس تعلق کو مانتے اور قبول کرتے تھے۔ منہ سہو کتابت ہے۔ اصل ماخذ میں آدھی چادر لکھا ہے۔ (ناشر) ** مراد ہنڈولے“ ہے۔ (ناشر)