سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 550

سَت بچن — Page 245

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۴۵ ست بچن طفولیت میں اسلام کی بڑی بڑی مصنفات ان کو پڑھا ئیں ۔ ڈاکٹر ٹرمپ صاحب اپنے ترجمہ (۱۲۱) گرنتھ نمبر الف صفحہ ۴۲ میں لکھتے ہیں کہ بابا نانک صاحب کا جنم ساکھی میں ایک یہ شعر ہے کہ قیامت کے دن نیک کام والوں کی کوئی پرسش نہیں ہوگی اے نانک نجات وہی پائیں گے جن کی پناہ حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے لیکن افسوس کہ ٹرمپ نے اپنے ترجمہ گرنتھ میں باوا نانک صاحب کی نسبت یہ بھی نکتہ چینی کی ہے کہ نانک کوئی محقق اور نکتہ رس آدمی نہیں تھا اسلئے اُس کا مشرب علمی اصول پر مبنی نہیں اُسے با قاعدہ مدرسہ کی تعلیم نہیں ملی تھی اسلئے وہ اپنے خیالات نہایت غیر منتظم اور پریشان اسلوب سے ظاہر کرتا تھا اور ٹرمپ صاحب نے ایک طنز اور ٹھٹھے کے طور پر دیباچہ صفحہ ۶ میں لکھا ہے کہ جنم ساکھیوں میں نانک کا پانچواں سفر گورکھ ہتری کی طرف بیان کیا گیا ہے مگر اب تک جغرافیہ دانوں کو اس مقام کا کچھ پتہ نہیں ملا۔ ڈاکٹر نے اپنے تعصب سے گو بادا صاحب کو ہندو قرار دیا ہے مگر جس مقام پر اُس نے باوا صاحب کے اس شعر کا ترجمہ کیا ہے کہ بغیر شفاعت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی نجات نہیں پائے گا وہاں گھبرا کر اُس کو کہنا پڑا کہ یہ آخری شعرظنی اور نانک کے مشرب کے برخلاف ہے اگر چہ اس میں اُس کا نام بھی ہے اسلئے کہ اس میں نانک نے صاف صاف اقرار کیا ہے کہ بغیر شفاعت اسلام کے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کو نجات نہیں ملے گی ۔ لیکن واضح رہے کہ ڈاکٹر ٹرمپ صاحب کا یہ خیال کہ یہ شعر جس سے نانک کا اسلام سمجھا جاتا ہے نانک کے مشرب کے برخلاف ہے سراسر تعصب کے راہ سے ہے کیونکہ خود ٹرمپ صاحب نے اپنے ترجمہ میں بابا نانک صاحب کے وہ بہت سے اشعار لکھے ہیں جو باوا صاحب کے اس شعر کے موید ہیں اور نہ ایک نہ دو بلکہ بیسیوں ایسے اشعار کا ترجمہ اپنی قلم سے کیا ہے ۔ پھر اس شعر پر تعجب کرنا اگر تعصب نہیں تو اور کیا ہے ۔ ٹرمپ صاحب نے اپنے ترجمہ میں برابر اول سے آخر تک ان اشعار کو تصریح سے لکھا ہے کہ باوا نا نک صاحب خدا تعالیٰ کو روحوں اور جسموں کا خالق جانتے تھے اور تو بہ قبول ہونے اور حشر جسمانی کے قائل تھے نجات کو جاودانی سمجھتے تھے اور خدا تعالیٰ کو وحدہ لاشریک اسلامی تعلیم کے موافق