سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 550

سَت بچن — Page 237

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۳۷ ست بچن پڑھی تو اس صورت میں ماننا پڑتا ہے کہ کسی طرح باوا صاحب کی نعش پر اُن مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا (۱۱۳) تھا اور پھر ہندوؤں کے آنسو پوچھنے کیلئے اس قصہ کو پوشیدہ رکھا گیا اسی لئے باوا صاحب کا کر یا کرم ہونا ثابت نہیں مگر بالاتفاق جنازہ ثابت ہے اور باوا صاحب کی یہ پیشگوئی کہ میرا جنازہ پڑھا جائے گا اسی صورت میں کامل طور پر تکمیل پاتی ہے کہ جب کہ نعش کی حاضری میں جیسا کہ عام دستور ہے جنازہ پڑھا گیا ہولیکن یہ دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ باوا صاحب کی نعش ہرگز جلائی نہیں گئی کیونکہ نعش کا جلانا کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتا اگر فش کو جلاتے تو باوا صاحب کے پھول بھی گنگا میں پہنچاتے کر یا کرم بھی کرتے مگر ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ پھر ایک تیسرا قرینہ یہ ہے کہ باوا صاحب جنم ساکھی کلاں یعنی انگلد کی جنم ساکھی میں دفن کئے جانا پسند کرتے ہیں اس سے صاف طور پر نکلتا ہے کہ باوا صاحب نے پوشیدہ طور پر دفن کئے جانے کیلئے اپنے مرید مسلمانوں کو وصیت کی ہوگی کیونکہ انسان جس چیز کو پسند کرتا ہے اس کے حاصل کرنے کیلئے تدبیر بھی کرتا ہے اور ایسے موقعہ پر بجز وصیت کے اور کوئی تدبیر نہیں۔ پھر ہم اصل مطلب کی طرف عود کر کے لکھنا چاہتے ہیں کہ باوا صاحب کی وفات کے وقت جب بعض مسلمانوں نے بادا صاحب کے وارثوں کے پاس آ کر جھگڑا کیا کہ با وا صاحب مسلمان تھے اور ہم اسلام کے طور پر اُن کی گور منزل کریں گے تو جس قدر بزرگ با وا صاحب کے جانشینوں اور دوستوں اور اولاد میں سے وہاں بیٹھے تھے کوئی اُن کی بات پر ناراض نہ ہوا اور کسی نے اُٹھ کر یہ نہ کہا کہ اسے نالائقو ! نادانو اور آنکھوں کے اندھو اور بے ادبو!!! یہ تم کیسے بکو اس کرنے لگے کیا با وا صاحب مسلمان تھے تا ان کی نعش ہم تمہارے سپر د کر دیں اور تم اُس پر جنازہ پڑھوا اور دفن کر و ۔ اے احمقو!!! کیا تمہیں معلوم نہیں وہ تو اسلام کے سخت دشمن تھے اور تمہارے نبی کو جس کی شرع کی رو سے تم جنازہ ☆ نوٹ ۔ جنم ساکھی کلاں صفحہ ۲۰۲۶ میں باو اصاحب کا یہ شعر قبر کے بارے میں ہے داغ پوتر دھرتری جو دھرتی ہوئے سمائے تا کے ٹکٹ نہ آؤئی دوزخ سندی بھائے یعنی جو لوگ داغ سے پاک ہو کر قبر میں داخل ہوئے دوزخ کی بھاپ اُن کے نزدیک بالکل نہیں آئے گی ۔ منہ