سَت بچن — Page 238
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۳۸ ست بچن (۱۳) پڑھنا چاہتے ہو جھوٹا جانتے تھے اور گندی گالیاں نکالا کرتے تھے بلکہ چاہئے تھا کہ قوم کے بزرگ ایسی بے ادبی سے سخت جوش میں آکر ایسے جاہلوں کو دو چار سوٹے لگا دیتے اور دروغ گو کو اُس کے گھر تک پہنچانے کیلئے چند شعر باوا صاحب کے اُن کو سنا دیتے جن میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہوتی کم سے کم وہ شعر تو ضرور سنانے چاہئے تھے جو پر چہ خالصہ بہادر تیس ستمبر ۱۸۹۵ء میں صفحہ ۵و۶ میں درج ہیں مگر یہ کیا بھول کی بات ہوگئی کہ اُن بزرگوں نے ان گستاخوں اور جھوٹوں اور بے ادبوں کو نہ ڈنڈوں کی مار کی نہ جھڑ کا نہ گالیاں دیں اور نہ باوا صاحب کے ایسے شعر اُن کو سنائے جن سے ثابت ہوتا ہو کہ وہ اسلام سے سخت بیزار تھے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نبی اور سچا پیغمبر نہیں سمجھتے تھے اور شعر بنا بنا کر گالیاں دیا کرتے تھے بلکہ اُن بزرگوں نے جب مسلمانوں کی یہ درخواست سنی کہ ہم با واصاحب کی نعش پر جنازہ ہی پڑھیں گے تو ذرہ بھی یہ جواب نہ دے سکے کہ تمہیں جنازہ پڑھنے کا کیا استحقاق ہے اور ایک ہندو جو اسلام کا مکذب ہے کیوں مسلمان اُس کا جنازہ پڑھیں بلکہ اُنہوں نے ایک عذر درمیان لا کر جس کی حقیقت خدا کو معلوم ہے باوا صاحب کی چادر کو نصفا نصف کر کے ہندو مسلمان دونوں کو دیدیا تا مسلمان اُس پر جنازہ پڑھ کے دفن کریں اور ہندو اُس کو جلا دیں اور معلوم ہوتا ہے کہ باوا صاحب بھی مسلمانوں کی رعایت کرنا چاہتے تھے ورنہ کیا ضرور تھا کہ اُن کا جسم گم ہوتا سوجسم اسی لئے گم ہوا کہ تا ہندو اُن کی نعش پر قابض نہ ہوں اور جسم گم ہونے کے اشارہ سے باوا صاحب کا مذہب سمجھ لیں غرض جن بزرگوں نے اپنی خوشی اور رضا سے مسلمانوں کو جنازہ پڑھنے اور دفن کرنے کیلئے چادر کا نصف ٹکڑو دے دیا اُن کی یہ عملی کا رروائی صاف شہادت دیتی ہے کہ وہ بدل اس بات پر راضی ہو گئے کہ اگر مسلمان لوگ باوا صاحب کو مسلمان سمجھتے ہیں تو اُن کا اختیار ہے کہ اُن کو مسلمان سمجھیں اور اُن پر جنازہ پڑھیں اور نہ صرف راضی ہوئے بلکہ چادر کا ٹکڑہ دے کر اُن کو جنازہ پڑھنے کی ترغیب بھی دی۔ پھر جس صورت میں وہ بزرگ جنہوں نے باوا صاحب کو دیکھا تھا اُن لوگوں پر ناراض نہ ہوئے جنہوں نے باوا صاحب کو مسلمان قرار دیا اُن پر جنازہ پڑھا اُن کی قبر بنائی بلکہ انہوں نے چادر کا نصف ٹکڑہ