سَت بچن — Page 228
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۲۸ ست بچن ۱۰۴ که با وا صاحب نے یہ تمام شہد انہیں آیتوں سے نقل کئے ہیں قبول نہ کرنا اور دانستہ ضد کرنا یہ اور بات ہے ورنہ باوا صاحب کا منشاء آفتاب کی طرح چمک رہا ہے کہاں تک اس کو کوئی چھپاوے اور کب تک اس کو کوئی پوشیدہ کرے۔ اور پھر ایک اور شہد میں باوا صاحب فرماتے ہیں پوچھ نہ سا جے پوچھ نہ ڈھائے پوچھ نہ دیوے لئے اپنی قدرت آپے جانے آپے کرن کرے سیکھنا ویکھے نذر کرے جے بھاوے تیں دے یعنی نہ پوچھ کر وہ بناتا ہے اور نہ پوچھ کر وہ فنا کرتا ہے اپنی قدرت آپ ہی جانے اور آپ ہی کاموں کا کرنے والا ہے سب کو دیکھتا ہے نظر کرتا ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اب پوشیدہ نہ رہے کہ یہ شہد مفصلہ ذیل آیات سے لیا گیا ہے كفَى بِاللَّهِ وَكِيلًا لَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِي مِنَ الثَّلِ وَكَيْرُهُ تَكْبِيرًا اللهُ لَطِيفُ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ قَائِمٌ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ " یعنی خدا اپنے کاموں کا آپ ہی وکیل ہے کسی دوسرے کو پوچھ پوچھ کر احکام جاری نہیں کرتا اُسکا کوئی بیٹا نہیں اور اُسکے ملک میں اُسکا کوئی شریک نہیں اور ایسا کوئی اُسکا دوست نہیں جو درماندہ ہو کر اُس نے اُسکی طرف التجا کی اُسکو نہایت بلند سمجھ اور اُسکی نہایت بڑائی کر اللہ باریک نظر سے اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے جسکو چاہتا ہے دیتا ہے ہر یک جان پر وہ کھڑا ہے اُسکے عمل مشاہدہ کر رہا ہے پھر ایک اور شعر با واصاحب کا ہے ئن من بھولے باورے گر کی چرنی لاگ ہر جب نام دھیائے توں عجم ڈرپے دُکھ بھاگ یعنی اے نادان دل مرشد کے قدم پر لگ جا اللہ کے نام کا وظیفہ کر ملک الموت ڈر جائے گا اور ل النساء : ۱۳۳ بنی اسرائیل : ۱۱۲ ۳ الشوری: ۲۰ الرعد: ۳۴