سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 550

سَت بچن — Page 224

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۲۴ ست بچن پھر با وا صاحب فرماتے ہیں۔ اک تیل پیار اوسرے روگ وڈا من ما ہیں کیوں درگہ پت پائے جاں ہر نہ وسے من ما ہیں یعنی اگر ایک ذرہ محبوب فراموش ہو جائے تو میرا دل بہت بیمار ہو جاتا ہے اور اُس درگاہ میں کیونکر عزت ملے اگر اللہ دل میں آباد نہ ہو۔ اور قرآن شریف میں ہے اذْكُرُونِي أَذْكُرُكُمْ إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ عَلَى الْأَرَائِكِ يَنْظُرُونَ عِبَادُ مُّكْرَمُوْنَ ، مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا یعنی تم مجھ کو یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔ نیکو کار آدمی یعنی جو خدا سے دل لگاتے ہیں وہ آخرت میں نعمتوں میں ہوں گے اور تختوں پر بیٹھے ہوئے خدا تعالیٰ کو دیکھیں گے وہ عزت پانے والے بندے ہیں۔ اور جو یہاں اندھا ہے وہ وہاں بھی اندھا ہی ہوگا ۔ یعنی جس کو اس دنیا میں خدا کا درشن حاصل ہے اُس کو اُس جہان میں بھی درشن ہوگا اور جو شخص اُس کو اس جگہ نہیں دیکھتا آخرت میں بھی اس عزت اور مرتبہ سے محروم ہوگا۔ اب دیکھو اس شعر کا تمام مضمون قرآن شریف ہی سے لیا گیا ہے اور اسلام کے عقیدہ کے موافق ہے اور ہندوؤں کے وید سے اس کا کچھ تعلق نہیں پس کیا ابھی تک سمجھ نہیں آیا کہ باوا صاحب ہر یک امر میں اسلامی عقائد کے موافق بیان کرتے جاتے ہیں اور قرآن کے سرچشمہ سے ہر یک نکتہ معرفت لیتے ہیں اور پھر باوا صاحب ایک شعر میں فرماتے ہیں ونج کرد و نجاریو وکھر ولے ہو سمال تیسی و ست و ساہئیے جیسی منجھے نال آگے ساہ سجان ہے لیسی دست سمال جنہاں راس نہ سچ ہے کیوں تنہاں سکھ ہو کھوٹے ونج و نجتے من تن کھوٹا ہو یعنی اے بیوپاریو اسباب کو سنبھالو۔ ایسی چیز لو جو ہمراہ جائے آگے مالک علیم وخبیر ہے وہ دیکھ بھال کر اسباب لے گا جن کی متاع کھوئی ہے اُن کو آرام کیونکر ملے گا کھوٹے بیو پار سے دل اور جسم کھوٹا ہوگا البقره : ۱۵۳ ۲ الانفطار : ۱۴ ۳ المطففين: ۳۶ ۴ الانبياء : ۲۷ ۵ بنی اسرائیل: ۷۳