سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 550

سَت بچن — Page 218

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۱۸ ست بیچن مگر جن لوگوں کے زبانی وہ شعر جمع کئے گئے تھے اُن کی درایت اور روایت ہرگز قابل اعتماد نہیں۔ باوا صاحب کے ہاتھ سے جو چیز آج تک دست بدست چلی آتی ہے اور جو اُن کے فوت ہونے کے بعد اُن کے گھر میں پائی گئی وہ فقط چولہ صاحب ہے ہر یک منصف کو چاہئے کہ اگر باوا صاحب کے مذہب کی اصل حقیقت دریافت کرنا ہے تو اس بارہ میں چولہ صاحب کی شہادت قبول کرے کہ باوا صاحب کا چولہ باوا صاحب کا قائم مقام ہے ہاں دوسری موافق شہادتیں جو گرنتھ وغیرہ سے ملتی ہیں وہ بھی کچھ تھوڑی نہیں ہیں مگر چولہ صاحب بہر حال سب سے مقدم اور زندہ گواہ ہے۔ باوانا نک صاحب کے اسلام پر خلاصہ دلائل ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ باو اصاحب وید کی خراب تعلیموں کو دیکھ کر بالکل اُس سے دست بردار ہو گئے تھے اور ہمیں غور کرنے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ باوا نا نک صاحب کی زندگی تین زمانوں پر مشتمل تھی اور وہ فوت نہیں ہوئے جب تک تیسر از مانہ اپنی زندگی کا نہ پالیا۔ (۱) پہلا زمانہ وہ تھا کہ جب وہ رسم اور تقلید کے طور پر ہندو کہلاتے تھے پس اس زمانہ کے شبد یعنی شعر اُن کے اگر ہندو مذہب کے مناسب حال ہوں تو کچھ بعید نہ ہوگا۔ (۲) اور دوسرا زمانہ باوا نانک صاحب پر وہ آیا جبکہ وہ ہندو مذہب سے قطعا بیزار ہو گئے اور وید کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے سودہ تمام شعر اُن کے جو دیدوں کی مذمت میں ہیں در حقیقت اُسی زمانہ کے معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اس دوسرے زمانہ میں باوا صاحب کو اسلام سے بھی کچھ ایسا تعلق نہیں تھا کیونکہ ابھی اُن کا گیان اُس درجہ تک نہیں پہنچا تھا جس سے وہ الہی دین کی روشنی کو پہچان سکتے بلکہ اس مرتبہ میں اُن کی معرفت کچھ دھندلی سی اور ابتدائی درجہ میں تھی۔ اس لئے کچھ تعجب نہیں کہ اُنہوں نے اپنی زندگی کے اُس دوسرے مرحلہ میں ایسی باتیں بھی کہی ہوں یا ایسے شعر بھی بنائے ہوں جو کامل سچائی کے مخالف ہوں (۳) تیسر از مانه با وا صاحب پر وہ آیا جبکہ اُن کی معرفت کامل ہو گئی تھی اور وہ جان چکے تھے کہ پہلے خیالات میرے خطا سے خالی نہ تھے