سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 550

سَت بچن — Page 210

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۱۰ ست بیچن پاک بنانے کیلئے ہے جس طرح دریا میں بار بار فسل کرنے سے کسی کے بدن پر میل باقی نہیں رہ سکتی اسی طرح جو لوگ خدا تعالیٰ کے ہی ہو جاتے ہیں اور اُس کے بچے فرمانبردار بن کر دریائے رحمت الہی میں داخل ہو جاتے ہیں بلا شبہ وہ بھی پاک ہو جاتے ہیں مگر ایک اور قوم بھی ہے جو مچھلیوں کی طرح اُس دریا میں ہی پیدا ہوتی ہیں اور اُس دریا میں ہی ہمیشہ رہتی ہیں اور ایک دم بھی اس دریا کے بغیر جی نہیں سکتی۔ وہ وہی لوگ ہیں جو پیدائشی پاک ہیں اور اُن کی فطرت میں عصمت ہے انہیں کا نام نبی اور رسول اور پیغمبر ہے خدا تعالی دھوکا کھانے والا نہیں وہ انہیں کو اپنا خاص مقرب بناتا ہے جو مچھلیوں کی طرح اُس کی محبت کے دریا میں ہمیشہ فطرنا تیرنے والے ہیں اور اُسی کے ہو رہتے ہیں اور اُسی کی اطاعت میں فنا ہو جاتے ہیں پس یہ قول کسی بچے راستباز کا نہیں ہوسکتا کہ خدا تعالیٰ کے سوا در حقیقت سب گندے ہی ہیں اور کوئی نہ کبھی پاک ہوا نہ ہوگا گویا خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عبث پیدا کیا ہے بلکہ کچی معرفت اور گیان کا یہ قول ہے کہ نوع انسان میں ابتدا سے یہ سنت اللہ ہے کہ وہ اپنی محبت رکھنے والوں کو پاک کرتا رہا ہے ہاں حقیقی پاکی اور پاکیزگی کا چشمہ خدا تعالیٰ ہی ہے جو لوگ ذکر اور عبادت اور محبت سے اُس کی یاد میں مصروف رہتے ہیں خدا تعالیٰ اپنی صفت اُن پر بھی ڈال دیتا ہے تب وہ بھی اُس پاکی سے ظلی طور پر حصہ پا لیتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی ذات میں حقیقی طور پر موجود ہے مگر بعض کیلئے رحمت الہی ابتدا سے ہی سبقت کرتی ہے اور وہ مادر زاد مورد عنایت ہوتے ہیں خدا تعالی اُن کو ابتداء سے ہی نالائق جذبات سے محفوظ رکھتا ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ اُن کی فطرت میں خداشناسی اور خداترسی اور صبر اور استقامت کا مادہ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور بالطبع وہ گناہ سے ایسا ہی نفرت کرتے ہیں جیسا کہ دوسرے لوگ گناہ سے محبت کرتے ہیں اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہمیشہ سے سب لوگ گندے ہی چلے آتے ہیں اور اس فطرت کے لوگ دنیا میں پیدا ہی نہیں ہوتے کہ جو خدا تعالیٰ سے پاکی حاصل کریں وہ خود گندا اور نابینا ہے مگر باوا نا تک صاحب کی نسبت ہم ایسا عقیدہ ہرگز نہیں رکھتے بلکہ ہم نہایت پختہ یقین سے کہتے ہیں کہ نالائق اور نادان لوگوں نے جن کو بچے گیان اور پاک معرفت کی کچھ خبر نہیں بادا صاحب پر یہ تہمتیں لگا دی