سَت بچن — Page 197
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۹۷ ست بچن نہیں ہوگی کہ باوانا تک صاحب کو خدا تعالیٰ سے سچا پیوند ہو گیا تھا اور اُنہوں نے سچا الہام پالیا تھا (۷۳) اور وہ حلال کھانے والے اور دنیا کی خواہشیں چھوڑنے والے تھے کیونکہ جس خدا کی ابتداء سے یہ عادت ہی نہیں کہ وہ دلوں کو پاک کرے اور لالچوں سے رہائی بخشے اور حرام کھانے سے بچاوے اور اپنے الہام سے مشرف کرے وہ نانک صاحب سے خلاف عادت کیوں ایسا کرنے لگا لیکن اگر واقعی اور سچی بات یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی نہ اب سے بلکہ ابتدا سے یہی عادت ہے کہ وہ غافلوں کو جگانے کیلئے بعض خاص بندوں کو اپنی معرفت آپ عطا کر کے دنیا میں بھیجتا ہے جن کو دوسرے لفظوں میں ولی یا پیغمبر کہتے ہیں تو پھر جو شخص ایسے پاک بندوں سے انکار کرے اور الہی انتظام کے قدیم فلسفہ کو نہ سمجھے تو کیا ایسے شخصوں کو ہم یا کوئی دوسرا شخص بھگت یا سدھ کے نام سے موسوم کر سکتا ہے اور کیا اُس کی نسبت کسی عارف کو ایک ذرہ گمان بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اُس سچی معرفت سے حصہ پانے والا تھا جو قدیم سے صادقوں کو ملتی آئی ہے کیونکہ جب اُس کا ایسے صادقوں پر بھی ایمان نہیں جنہوں نے کروڑ بادلوں میں صدق برساد یا بلکہ اُن کو لالچی اور حرام خور جانتا ہے تو ایسے شخص کو کون حلال خور اور بھلا مانس کہہ سکتا ہے پس پھر ہم منصفوں سے سوال کرتے ہیں اور اُن سے انصاف چاہتے ہیں کہ کیا نعوذ باللہ باوانا تک صاحب یہی اعتقادر کھتے تھے کہ مجھے سے پہلے خدا تعالی کا بندوں کی اصلاح کے لئے کوئی انتظام نہ تھا اور مصلح کے نام سے تمام لوگ ٹھگ اور لالچی اور دنیا پرست ہی آتے رہے اور اگر یہ اعتقاد نہیں رکھتے تھے تو اُس بزرگ مصلح اور نبی اللہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر باوا صاحب کی نظر میں اور کون آدمی تھا جس نے کروڑ ہا انسانوں کو بتوں اور عیسی پرستی اور مخلوق پرستی سے نجات دے کر کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ پر قائم کر دیا تھا اور ایسا نمونہ باوا صاحب کی آنکھوں کے سامنے اور کون تھا جس نے مخلوق پرستی کی جڑ کو کاٹ کر دنیا کے اکثر ملکوں میں توحید کا باغ لگا دیا تھا کیونکہ اگر کوئی نمونہ نہیں تھا تو پھر وہی نا پاک اعتقاد لازم آئے گا کہ گویا با دانا نیک صاحب کا یہی گمان تھا کہ اُن سے پہلے تمام دنیا ابتدا سے ظلمت میں ہی پڑی رہی اور کوئی جگانے والا پر میشر کی طرف سے دنیا میں نہ آیا لیکن اگر با واصاحب کا یہ اعتقاد تھا کہ بیشک دنیا میں مجھ سے پہلے ایسے کامل بندے آئے جنہوں نے کروڑہا دلوں کو الہام الہی کی روشنی سے توحید کی طرف کھینچا تو یہ بار ثبوت باوا صاحب کی