سَت بچن — Page 196
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۹۶ ست بچن ۷۲ اتفاقاً بیٹھ جاتے تھے تو ہندو سمجھتے تھے کہ یہ جگہ پلید ہوگئی اور پنڈت لوگ فتوے دیتے تھے کہ اب یہ جگہ ایسی ناپاک ہو گئی ہے کہ جب تک اس پر گنٹو کے گوبر سے لپائی نہ کی جائے گی تب تک یہ کسی طرح پھر پوتر نہیں ہوسکتی۔ سو ہندو لوگوں کو جو وہم کے مارے ہوئے ہیں اُن کے قدم قدم پر گوبر کی لپائی کرنی پڑتی تھی۔ لیکن اگر باو اصاحب کے صد ہاشبدوں اور صاف شہادتوں اور روشن ثبوتوں سے قطع نظر کر کے یہ فرض کیا جائے کہ قرآن شریف کے بھی وہ مکذب تھے اور ہمارے پاک نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سچا نبی نہیں سمجھتے تھے اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے اولیاء باوا فرید اور شمس تبریز اور معین الدین چشتی وغیرہ کو جو اس وقت بہت شہرت رکھتے تھے با خدا آدمی خیال کرتے تھے بلکہ سب کو لالچی اور گمراہ خیال کرتے تھے تو اس صورت میں ضرور یہ سوال ہوگا کہ وہ کون سچے لوگ ہیں جن کو باوا صاحب پاک دل اور پرمیشر کے بھگت مانتے تھے اور اگر نہیں مانتے تھے تو کیا اُن کا یہ اعتقاد تھا کہ جس قدر لوگ اُن کے وجود سے پہلے دنیا کی اصلاح کے لئے آئے اُن سب کو نا پاک جانتے اور لالچی اور نفسانی خیال کرتے تھے یہ تو ظاہر ہے کہ وید سے تو وہ الگ ہی ہو چکے تھے اور دیدوں کے درخت کو اچھا پھل لانے والا درخت نہیں جانتے تھے تبھی تو پنڈتوں نے یہ فتویٰ دیا کہ اس شخص کے بیٹھنے سے زمین پلید ہو جاتی ہے جہاں بیٹھے اُس زمین کو دھوڈالو اور آپ کو بھی تو اقرار ہے کہ وہ ہندو نہیں تھے لیکن کوئی پاک دل یہ بات تو نہیں کہہ سکتا کہ مجھ سے پہلے سب جھوٹوں نے ہی مت چلائے ہیں اس بات کا ضرور جواب دینا چاہئے کہ باوا صاحب کو گذشتہ نبیوں میں سے کسی نبی کے سچا ہونے کا اقرار تھا کیونکہ اگر نعوذ باللہ یہ بات سچ نہیں کہ خدا تعالیٰ نانک صاحب کے وجود سے پہلے ہی ہزاروں لاکھوں، کروڑوں کو اپنی ذات کی اطلاع دیتا رہا ہے اور بے شمار صادق اور خدا تعالیٰ کے پاک نبی دنیا کو الہی روشنی دکھلانے کیلئے بندوں کی طرف بھیجے گئے ہیں اور بے شمار الہام پانے والے اور وحی پانے والے اور سچے دل والے اور دنیا کی خواہشوں کو چھوڑنے والے اور حلال کھانے والے اور پاک دل والے اور معرفت والے اور گیان والے نانک صاحب سے پہلے دنیا میں ظاہر ہوتے رہے ہیں تو یہ دوسری بات بھی ہرگز سچی