سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 550

سَت بچن — Page 173

۵۳ روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۷۳ گر و سجس کے اس رہ پہ ہوویں فدا وہ چیلہ نہیں جو نہ دے سرجھکا اگر ہاتھ سے وقت جاوے نکل تو پھر ہاتھ مل مل کے رونا ہے کل نه مردی ہے تیر اور تلوار سے بنو مرد مردوں کے کردار سے ستو آتی ہے ہر طرف سے صدا کہ باطل ہے ہر چیز حق کے سوا کوئی دن کے مہمان ہیں ہم کبھی خبر کیا کہ پیغام آوے ابھی گرو نے یہ چولا بنایا شعار دکھایا کہ اس رہ پہ ہوں میں نثار وہ کیونکر ہو اُن ناسعیدوں سے شاد جو رکھتے نہیں اُس سے کچھ اعتقاد اگر مان لو گے گرو کا یہ واک تو راضی کرو گے اُسے ہو کے پاک وہ احمق ہیں جو حق کی رو کھوتے ہیں عبث ننگ و ناموس کو روتے ہیں وہ سوچیں کہ کیا لکھ گیا پیشوا وصیت میں کیا کہہ گیا برملا کہ اسلام ہم اپنا دیں رکھتے ہیں محمد کی رہ پر یقین رکھتے ہیں اٹھو سونے والو کہ وقت آگیا تمہارا گرو تم کو سمجھا گیا نہ سمجھے تو آخر کو پچھتاؤ گے گرو کے سراپوں کا پھل پاؤ گے چولہ کی مختصر تاریخ ست بچن کتاب ساکھی چولا صاحب سے یہ ثابت ہے کہ جب با وانا تک صاحب کا انتقال ہوا تو یہ چولا انگر صاحب کو جو پہلے جانشین با وا صاحب کے تھے ملا جس کو انہوں نے گڑی پر بیٹھنے کے وقت سر پر باندھا اور ہمیشہ بڑی تعظیم و تکریم کے ساتھ اپنے پاس رکھا۔ چنانچہ پانچویں گرو ارجن داس صاحب کے وقت تک ہر ایک گرو اپنی گدی نشینی کے وقت اس کو مبارک سمجھ کر سر پر رکھتا رہا اور ان میں ایک فرض کی طرح یہ عادت تھی کہ بڑے بڑے درباروں میں اور عظیم الشان مہموں کے وقت یہ چولہ سر پر رکھتے اور اُس سے