سَت بچن — Page 174
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۷۴ ست بچن (۵۴) برکت ڈھونڈھتے اور ایک مرتبہ ارجن داس صاحب کے وقت میں امرت سر کا تالاب بن رہا تھا اور بہت اخلاص مند سکھ اُس کے کھودنے میں مصروف تھے تو ایک شخص طوطا رام جوز مین کھود نے میں لگا ہوا تھا اور ارجن داس صاحب سے بہت ہی اعتقاد رکھتا تھا اُس کے اخلاص کو ارجن داس صاحب نے دیکھ کر اُسے کہا کہ میں تجھ سے خوش ہوں اس وقت جو کچھ تو نے مجھ سے مانگنا ہے مجھے سے مانگ اُس نے کہا کہ مجھے سکھی دان دو یعنی ایسی چیز دو جس سے مجھے دین کی ہدایت ہو تب ارجن صاحب سمجھ گئے کہ یہ چولہ مانگتا ہے کیونکہ سچے دین کی ہدایتیں اسی میں موجود ہیں تو انہوں نے کہا کہ تو نے تو ہمارے گھر کی پونچی ہی مانگ لی پھر سر سے اتار کر اُس کو چولہ دیدیا کہ لے اگر ہدایت چاہتا ہے تو سب ہدایتیں اسی میں ہیں لیکن پھر وہی چولہ ایک مدت کے بعد کا بلی مل کو جو باوا نانک صاحب کی اولاد میں سے تھا مل گیا اور اب تک بمقام ڈیرہ نانک ضلع گورداسپورہ پنجاب انہیں کی اولاد کے پاس موجود ہے جس کا مفصل ذکر ہم کر چکے ہیں اس چولہ کے لئے ایک شخص عجب سنگھ نام نے ایک بڑا مکان ڈیرہ نانک کی شرقی جانب میں بنایا تھا اور جولوگ چولہ پر رومال چڑھاتے رہے اُن میں سے جو بعض کے نام معلوم ہوئے وہ یہ ہیں : راجہ صاحب سنگھ ۔ راجہ بھوپ سنگھ۔ نروان پر تم داس۔ راجہ پنا سنگھ۔ راجہ ٹیلا۔ ہری سنگھ نلوا۔ عجب سنگھ۔ دیوان موتی رام ۔ راجہ صاحب پٹیالہ ۔ سردار نہال سنگھ چھاچی اور ایسا ہی برہما شکار پور دکن ۔ کشمیر ۔ بخارا بمبئی وغیرہ ملکوں کے لوگ اب تک اس چولہ پر رومال چڑھاتے رہے۔ اس چولہ کا ہر سال میلہ ہوتا ہے اور دور دور ملکوں سے لوگ آتے ہیں اور صد ہا لوگ ملک سندھ کے اور نیز بخارا کے بھی جمع ہوتے ہیں اور ہزار ہا روپے کی آمدن ہوتی ہے بخارا میں باوانا تک صاحب کو نانک پیر کر کے بولتے ہیں اور اس کو ایک مسلمان فقیر سمجھتے ہیں اور اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ نوٹ ۔ ایک شخص جو بخارا میں دس سال رہ آیا ہے وہ بیان کرتا ہے کہ بخارا میں آج کل باوا نا نک صاحب کو باواننو کہتے ہیں نانک کے لفظ سے کوئی واقف نہیں اور محمد شریف صاحب پشاوری لکھتے ہیں کہ کابل میں دو مقام نانک کے نہایت مشہور ہیں ایک مکان ایک گاؤں میں ہے جس کا نام خواجہ سرائے ہے اور کابل سے سات کوس کے فاصلہ پر ہے اور دوسرا مقام قلعہ بلند میں ہے جو کابل سے ہیں کوس کے فاصلہ پر ہے اور وہاں کے اکثر لوگ اس کو مسلمان خیال کرتے ہیں ۔ منہ