سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 550

سَت بچن — Page 165

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۶۵ ست بیچن وہ طاقت کہ ملتی ہے ابرار کو وہ دے مجھے کو دکھلا کے اسرار کو خطاوار ہوں مجھ کو وہ رہ بتا که حاصل ہوجس رہ سے تیری رضا اسی عجز میں تھا تذلیل کے ساتھ کہ پکڑا خدا کی عنایت نے ہاتھ ہوا غیب سے ایک چولہ عیاں خدا کا کلام اُس پہ تھا بے گماں شہادت تھی اسلام کی جابجا کہ سچا وہی دیں ہے اور رہنما یہ لکھا تھا اُس میں بخط علی کہ اللہ ہے اک اور محمد نبی کی اللہ ہوا حکم پہن اس کو اے نیک مرد اتر جائیگی اس سے وہ ساری گرد جو پوشیدہ رکھنے کی تھی اک خطا یہ کفارہ اُس کا ہے اے باوفا ممکن ہے کشفی ہو ماجرا دکھایا گیا ہو نہ صلی محکم خدا پھر اُس طرز پر یہ بنایا گیا بحکم خدا پھر لکھایا گیا مگر یہ بھی ممکن ہے اے پختہ کار کہ خود غیب سے ہو یہ سب کا روبار کہ پردے میں قادر کے اسرار ہیں کہ عقلیں وہاں پیچ و بیکار ہیں تو یک قطره داری زعقل و خرد مگر قدرتش بحر بے حد و عد اگر بشنوی قصه صادقاں مجنباں سر خود چو مستہزیاں مقامات مرداں کجا دیده تو خود را خردمند فهمیده غرض اُس نے پہنا وہ فرخ لباس نہ رکھتا تھا مخلوق سے کچھ ہراس وہ پھرتا تھا کوچوں میں چولہ کیسا تھ دکھاتا تھا لوگوں کو قدرت کے ہاتھ کوئی دیکھتا جب اُسے دور سے تو ملتی خبر اُس کو اُس نور سے جسے دور سے وہ نظر آتا تھا اُسے چولہ خود بھید سمجھاتا تھا وہ ہر لحظہ چولے کو دکھلاتا تھا اسی میں وہ ساری خوشی پاتا تھا غرض یہ تھی تا یار خورسند ہو خطا دور ہو پختہ پیوند ہو