سَت بچن — Page 166
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۶۶ جو عشاق اُس ذات کے ہوتے ہیں وہ ایسے ہی ڈر ڈر کے جاں کھوتے ہیں وہ اُس یار کو صدق دکھلاتے ہیں اسی غم میں دیوانہ بن جاتے ہیں وہ جاں اُس کی رہ میں فدا کرتے ہیں وہ ہر لحظہ سو سو طرح مرتے ہیں وہ کھوتے ہیں سب کچھ بصدق وصفا مگر اُس کی ہو جائے حاصل رضا یہ دیوانگی عشق کا ہے نشاں نہ سمجھے کوئی اس کو مجد عاشقاں غرض جوش اُلفت سے مجذوب وار یہ نانک نے چولا بنایا شعار مگر اُس سے راضی ہو وہ دلستاں کہ اُس بن نہیں دل کو تاب و تواں خدا کے جو ہیں وہ یہی کرتے ہیں وہ لعنت سے لوگوں کی کب ڈرتے ہیں وہ ہو جاتے ہیں سارے دلدار کے نہیں کوئی اُن کا بجز یار کے وہ جاں دینے سے بھی نہ گھبراتے ہیں کہ سب کچھ وہ کھو کر اسے پاتے ہیں وہ دلبر کی آواز بن جاتے ہیں وہ اُس جاں کے ہمراز بن جاتے ہیں وہ ناداں جو کہتا ہے دربند ہے نہ الہام ہے اور نہ پیوند ہے نہیں عقل اُس کو نہ کچھ غور ہے اگر دید ہے یا کوئی اور ہے یہ سچ ہے کہ جو پاک ہو جاتے ہیں خدا سے خدا کی خبر لاتے ہیں اگر اُس طرف سے نہ آوے خبر تو ہو جائے یہ راہ زیر و زبر طلبگار ہو جائیں اُس کے تباہ وہ مر جائیں دیکھیں اگر بند راہ مگر کوئی معشوق ایسا نہیں کہ عاشق سے رکھتا ہو یہ بغض وکیں خدا پر تو پھر یہ گماں عیب ہے کہ وہ راحم و عالم الغیب ہے اگر وہ نہ بولے تو کیوں کر کوئی یقیں کر کے جانے کہ ہے مختفی وہ کرتا ہے خود اپنے بھگتوں کو یاد کوئی اُس کے رہ میں نہیں نامراد مگر وید کو اس سے انکار ہے اسی سے تو بے خیر و بیکار ہے ست بچن