سَت بچن — Page 156
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۵۶ ست بچن ۳۶ نہایت ہی فدا ہو گئے تھے اور وہ اس چولہ کو اسی غرض سے بطور وصیت چھوڑ گئے تھے کہ تاسب لوگ اور آنے والی نسلیں اُن کی اندرونی حالت پر زندہ گواہ ہوں اور ہم نہایت افسوس کے ساتھ لکھتے ہیں کہ بعض مفتری لوگوں نے یہ کیسا جھوٹھ بنالیا کہ چولے پر سنسکرت اور شاستری لفظ اور زبور کی آیتیں بھی لکھی ہیں یادر ہے کہ یہ بالکل جھوٹھ اور سخت مکر وہ افترا پردازی ہے اور کسی شریر انسان کا کام ہے نہ بھلے مانس کا ۔ ہم نے بار بار کھول کے دیکھ لیا تمام چولہ پر قرآن شریف اور کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت لکھا ہوا ہے اور بعض جگہ آیات کو صرف ہندسوں میں لکھا ہوا ہے مگر ز بور اور سنسکرت کا نام و نشان نہیں ہر یک جگہ قرآن شریف اور اسماء الھی لکھے ہیں جو قرآن شریف میں ہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ جھوٹھ صرف اس لئے بنایا گیا ہے کہ تا لوگ یہ سمجھ جاویں کہ چولا صاحب پر جیسا کہ قرآن شریف لکھا ہوا ہے وید بھی لکھا ہوا ہے مگر ہم بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنت الله على الكاذبین۔ باوا صاحب تو چولے میں صاف گواہی دیتے ہیں کہ بجز دین اسلام کے تمام دین جھوٹے اور باطل اور گندے ہیں پھر وہ وید کی تعریف اُس میں کیوں لکھنے لگے۔ چولا موجود ہے جو شخص چاہے جاکر دیکھ لے اور ہم تین ہزار روپیہ نقد بطور انعام دینے کے لئے طیار ہیں اگر چولہ میں کہیں وید یا اُس کی شرقی کا ذکر بھی ہو یا بجز اسلام کے کسی اور دین کی بھی تعریف ہو یا بجز قرآن شریف کے کسی اور کتاب کی بھی آیتیں لکھی ہوں ہاں یہ اقرار ہمیں کرنا مناسب ہے کہ چولا صاحب میں یہ صریح کرامت ہے کہ باوجود یکہ وہ ایسے شخصوں کے ہاتھ میں رہا جن کو اللہ اور رسول پر ایمان نہ تھا اور ایسی سلطنت کا زمانہ اُس پر آیا جس میں تعصب اس قدر بڑھ گئے تھے کہ بانگ دینا بھی قتل عمد کے برابر سمجھا جاتا تھا مگر وہ ضائع نہیں ہوا تمام مغلیہ سلطنت بھی اُس کے وقت میں ہی ہوئی اور اُسی کے وقت میں ہی نابود ہو گئی مگر وہ اب تک موجود ہے اگر خدا تعالیٰ کا ہاتھ اُس پر نہ ہوتا تو ان انقلابوں کے وقت کب کا نابود ہو جا تا مقدر تھا کہ وہ ہمارے زمانہ تک رہے اور ہم اس کے ذریعہ سے باوا صاحب کی عزت کو بے جا الزاموں سے پاک کریں اور اُن کا اصل مذہب لوگوں پر ظاہر کر دیں۔ سو ہم نے چولہ کو ایسے طور سے دیکھا کہ غالباً کسی نے بھی ایسا دیکھا نہیں ہوگا کیونکہ