سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 550

سَت بچن — Page 143

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۴۳ ست بچن کرتے ہیں اور ہم تسلیم کر لیں گے کہ شاید کسی مسلمان نے موقعہ پا کر گرنتھ میں داخل کر دیتے ہیں اس لیکن اگر دلائل قاطعہ سے یہ ثابت ہو جائے کہ باوا صاحب نے اسلام کے عقائد قبول کر لئے تھے اور وید پر ان کا ایمان نہیں رہا تھا تو پھر وہ چند اشعار جو باوا صاحب کے اکثر حصہ کلام سے مخالف پڑے ہیں جعلی اور الحاقی تسلیم کرنے پڑیں گے یا اُن کے ایسے معنے کرنے پڑیں گے جن سے تناقض دور ہو جائے اور ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض با تا دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق ۔ پس بڑی بے ادبی ہو گی کہ متناقض باتوں کا مجموعہ با وا صاحب کی طرف منسوب کیا جائے ۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ باوا صاحب نے ایسے مسلمانوں اور قاضیوں مفتیوں کو بھی اپنے اشعار میں سرزنش کی ہو جنہوں نے اس حق اور حقیقت کو چھوڑ دیا جس کی طرف خدا تعالیٰ کا کلام بلاتا ہے اور محض رسم اور عادت کے پابند ہو گئے چنانچہ قرآن شریف اور حدیث میں بھی ہے کہ ایسے نمازیوں پر لعنتیں ہیں جن میں صدق اور اخلاص نہیں اور ایسے روزے نری فاقہ کشی ہے جن میں گناہ ترک کرنے کا روزہ نہیں ۔ سو تعجب نہیں کہ غافل مسلمانوں کے سمجھانے کے لئے اور اس غرض سے کہ وہ رسم اور عادت سے آگے قدم بڑھاویں باوا صاحب نے بعض بے عمل مولویوں اور قاضیوں کو نصیحت کی ہو۔ اب ہم کھول کر لکھتے ہیں کہ ہماری رائے باوانا تک صاحب کی نسبت یہ ہے کہ بلا شبہ وہ سچے مسلمان تھے اور یقیناً وہ وید سے بیزار ہو کر اور کلمہ طیبہ لا اله الا الله محمد رسول الله سے مشرف ہو کر اُس نئی زندگی کو پا چکے تھے جو بغیر خدائے تعالیٰ کے پاک رسول کی پیروی کے کسی کو نہیں مل سکتی ۔ وہ ہندوؤں کی آنکھوں سے پوشیدہ رہے اور پوشیدہ ہی چلے گئے اور اس کے دلائل ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔