سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 550

سَت بچن — Page 130

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۳۰ ست بچن ۱۸) جس کا بیان غلط باتوں سے پاک ہوتا ہے۔ باقی ترجمہ دیانند کی کلام کا یہ ہے کیا وید پڑھنے والے مر گئے اور نانک جی وغیرہ گرنتھے والے آپ کو زندہ سمجھتے ہیں یا وہ نہیں مرے۔ وید تو جملہ علوم کا خزانہ ہے جو ویدوں کو کہانی بتائے اُس کی سب باتیں کہانی ہیں یعنی وہ خود یاوہ گو ہے ( پھر دیانند اشارہ کے طور پر باوا صاحب کو ایک گالی دے کر کہتا ہے ) جن گنواروں کا نام سنت اور بادی رکھا گیا یعنی باوا نانک صاحب وہ بیچارے ویدوں کی تعریف کیا جانیں نانک جی اگر ویدوں پر بھروسہ کرتے تو اُن کی مکاری کیونکر چل سکتی اور کیونکر گرو بن سکتے کیونکہ آپ تو وہ سنسکرت کے علم سے ناواقف تھے تو پھر دوسرے کو دید پڑھا کر کیونکر اپناسکھ بناتے۔ اقول ۔ جس قدر د یا نند نے باوا صاحب کے نام نادان اور جاہل اور فریبی اور گنوار اور مکار اور دنیا پرست اور لالچی وغیرہ وغیرہ اپنی اس کتاب میں رکھے ہیں درحقیقت وہ تمام غصہ باوا صاحب کے اس شعر کی وجہ سے اور نیز اُن اسلامی عقائد کی وجہ سے ہے جو باوا صاحب کے اشعار میں بکثرت پائے جاتے ہیں لیکن اگر یہ متعصب پنڈت خدا ترس ہوتا تو یہ تمام وجوہ با وا صاحب کی عظمت اور بزرگی اور نیک بختی پر دلالت کرتی تھیں باوا صاحب ایک راست باز آدمی تھے وہ نادان پنڈتوں کی طرح تعصب اور بخل کے کیچڑ میں مبتلا نہیں تھے ۔ اور اُن کو وہ روشنی دی گئی تھی جو اُن لوگوں کو دی جاتی ہے جو سچے دل سے خدا تعالیٰ کو ڈھونڈتے ہیں اور اُنہوں نے حق الیقین کی طرح سمجھ لیا تھا کہ ہندوؤں کے وید ضلالت اور گمراہی سے بھرے ہوئے ہیں۔ اس لئے انہوں نے فرمایا کہ چاروں وید کہانی اور یاوہ گوئی ہے کوئی وڈیا اُن میں نہیں ہے اور اسی لئے علانیہ طور پر گواہی دے دی کہ خدا تعالی کی وہ تعریفیں جو راست باز اور عارف اور واصلان درگاہ الہی کرتے ہیں وید نے اُس پاک ذات کی وہ تعریفیں نہیں کیں۔ پس باوا صاحب کا یہ قول سرا سر سچ ہے اور آب زر سے لکھنے کے لائق ہے۔ باوا صاحب کے زمانہ پر قریبا چارسو برس گذر گیا اور اب جابجا وید ترجمہ ہو کر مشتہر ہوئے اور معلوم ہوا کہ اُن میں بجز عناصر پرستی اور ستارہ پرستی کے اور کچھ نہیں پس در حقیقت