سَت بچن — Page 127
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۲۷ ست بچن محض کوئی بھی پیدا نہیں کیا گیا ہر ایک میں نور کا ذرہ مخفی ہے۔ اس میں باوا صاحب نے آیت اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ سے اقتباس کیا ہے اس لئے اللہ اور نور کا لفظ شعر میں قائم رہنے دیا تا اقتباس پر دلالت کرے اور نیز حدیث اول ما خلق الله نوری کی طرف بھی اس شعر میں اشارہ کیا ہے اور یہی باوا صاحب کی عادت تھی کہ قرآن شریف کے بعض معارف ہندی زبان میں ترجمہ کر کے لوگوں کو فائدہ پہنچاتے چنانچہ اُن کے اشعار میں صدہا قرآنی آیتوں کا ترجمہ موجود ہے اسی طرح باوا صاحب کا ایک شعریہ ہے۔ دکھاں درشن اِت ہے اُنھاں درشن اُت جنھاں درشن اث نا اُنھاں رات نہ اُت ترجمہ یہ ہے کہ جو لوگ اس جہان میں خدا کا درشن پالیتے ہیں وہ اُس جہان میں بھی پالیتے ہیں اور جو نہیں پاتے وہ دونوں جہانوں میں اُس کے درشن سے بے نصیب رہتے ہیں اور یہ شعر بھی اس آیت قرآن کا ترجمہ ہے۔ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى قولہ چاہتے تھے کہ میں سنسکرت میں بھی پگ اڑاؤں ۔ پرنتو بنا پڑھے سنسکرت کیسے آ سکتا ہے یعنی بادا نا نک صاحب سنسکرت میں خواہ نخواہ پاؤں اڑاتے تھے بھلا سنسکرت پڑھنے کے بغیر کیسے آ سکتا ہے۔ اقول یہ کلمہ بھی متکبرانہ ہے دیا نند نے چار حرف سنسکرت کے تو پڑھ لئے مگر تکبر کی زہر نے اُس کو روحانی زندگی سے محروم کر دیا جو نیک دلوں کو حاصل ہوتی ہے۔ قولہ۔ ہاں اُن گرامینوں کے سامنے کہ جنہوں نے سنسکرت کبھی سنا بھی نہیں تھا سنسکرتی بنا کر سنسکرت کے بھی پنڈت بن گئے ہوں گے یعنی اُن گاؤں والوں کے سامنے جنہوں نے کبھی سنسکرت سنی بھی نہ تھی ایسی ایسی عبارتیں سنسکرت کی بنا کر پنڈت بن گئے ہوں گے۔ اقول اس نااہل پنڈت کا ارادہ یہ ہے کہ باوا صاحب کو نہ صرف نادان اور جاہل کہے بلکہ اُن کو فریبی اور مکار بھی بناوے اسی لئے لکھتا ہے کہ جو لیاقتیں اُن میں موجود نہیں تھیں عوام کو دھوکہ دینے کے لئے ل النور: ٣٦ بنی اسرائیل: ۷۳