سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 550

سَت بچن — Page 118

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۱۸ ست بچن اور ان کے گرنتھ کو غور سے پڑھنے والے اس بات کو جانتے ہیں کہ اُن کا یہ مذہب ہر گز نہیں تھا جو آج کل آریہ لوگ پیش کر رہے ہیں یعنی یہ کہ کل جیو قدیم اور خود بخود چلے آتے ہیں ان کا کوئی خالق نہیں بلکہ باوا صاحب اپنے گرنتھ کے کئی مقام میں بتلا چکے ہیں کہ جو آپ ہی آپ بغیر کسی موجد کی ایجاد کے موجود ہے وہ صرف پر میشر ہے اور دوسری سب چیزیں اُس کی پیدا کی ہوئی ہیں ایک چیز بھی ایسی نہیں جو اُس نے پیدا نہیں کی اس سے صاف کھل گیا کہ باوا صاحب اپنی سچی معرفت کے زور سے ہندوؤں کے ویدوں سے دست بردار ہو گئے تھے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے باوا صاحب کو وہ روشنی ملی تھی کہ اگر ویدوں کے رشیوں کی نسبت ثابت کرنا چاہیں تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ امر غیر ممکن ہوگا۔ جب ہم سوچتے ہیں کہ باوا صاحب کے گرنتھ میں کیسی کیسی گیان کی باتیں بھری ہوئی ہیں اور کس قدر بار یک معارف کی طرف اشارے پائے جاتے ہیں تو اُس کے مقابل پر دیانند کی کتابیں ایک مکروہ بھوتنے کی طرح نظر آتی ہیں تو پھر ساتھ ہی اس بات کے تصور سے رونا آتا ہے کہ یہ نالائق ہند و وہی شخص ہے جس نے اپنے پنڈت ہونے کی شیخی مار کر با واصاحب کو نادان اور گنوار کے لفظ سے یاد کیا ہے کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ جس شخص کے مونہہ سے ایسے گیان اور معارف کی باتیں نکلیں وہ گنوار یا نادان ہے یہ کیسی نا پا کی طینت ہے کہ پاک دل لوگوں کو جھٹ زبان پھاڑ کر برا کہ دیا جائے آریہ اس بات کو یا درکھیں تو اچھا ہو کہ دیانند صرف ایک جسمانی خیالات کا آدمی تھا اور اُن کتابوں کی تاریکی میں مبتلا تھا جن میں ہر طرح کی برائیاں ہیں اور ایک ایسے مذہب کی خاطر جس کی آج تک کوئی خوبی بجز نیوگ اور مخلوق پرستی کے ثابت نہیں ہوئی ناحق بزرگوں اور مہاتما لوگوں کی نند یا کر کے گذر گیا لہذا کوئی نیک طینت انسان اس کو اچھا نہیں کہتا لیکن باوانا نک صاحب تو وہ شخص تھے جن پر اس وقت میں لاکھ کے قریب انسان جان فدا کر رہے ہیں ۔ یہ بات بالکل سچی ہے کہ باوا صاحب کی ذات میں اُس قدر خوبیاں اور نیکیاں جمع تھیں کہ دیانند کی نوٹ ۔ میں لاکھ خاص لوگ ہیں ورنہ اُن کے معتقد تین کروڑ سے کچھ کم نہیں ہوں گے۔ منہ