سناتن دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 479 of 566

سناتن دھرم — Page 479

روحانی خزائن جلد ۱۹۔ MLL سناتن دھرم کو پر میشر نے بڑی بڑی طاقتیں دے رکھی ہیں جن کی وجہ سے وہ لوگوں کی مراد پوری کرتے ہیں۔ سو اگر چہ یہ بات غلط ہے بلکہ مراد یں دینے والا صرف ایک ہے یعنی خدا جس کو پر میشر کہتے ہیں اور دنیا اور آخرت میں وہی شخص عزت پاتا ہے اور اُسی کو برکت دی جاتی ہے جو سب کو چھوڑ کر سچے دل سے اپنے خدا کا فرمانبردار ہو جاتا ہے۔ ہر ایک وقت اُس پاک پر میشر سے یہ آواز آتی ہے۔ کہ جے تو میرا ہور ہے سب جگ تیرا ہو۔ اور یہی ہم نے آزمایا اور ہم اس کے گواہ ہیں ۔ جو شخص اس کی محبت میں محو ہو جاتا ہے اور اس کی آتشِ محبت سے جل کر ایک نیا وجود لیتا ہے پس جب وہ اس آگ میں داخل ہو جاتا ہے تو زمین آسمان کی تمام چیزیں جن کی دوسرے لوگ پرستش کرتے ہیں اس کے چاکر اور خدمت گار ہو جاتے ہیں۔ غرض یہ تو سناتن دھرم والوں کی غلطی ہے کہ اپنے جیسی چیزوں سے مرادیں مانگتے ہیں اور وہ زندہ اور چمکتا ہوا نور جو ان کے سامنے ہے اور دور نہیں ہے بلکہ خود تراشیدہ پتھروں کی نسبت بہت نزدیک ہے اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے مگر تا ہم وہ مانتے ہیں کہ ہر ایک چیز پر میشر سے نکلی ہے۔ اس کے بغیر کوئی چیز خود بخود نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہی وید کی تعلیم ہوگی جس کو سناتن دھرم والے اب تک بھولے نہیں۔ اور ہمیں اُن رشیوں منوں کے ان شرتیوں کو دیکھنے سے جنہوں نے بنوں میں جا کر بڑی بڑی ریاضتیں کی تھیں یہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ وید کی اصل حقیقت انہیں پر کھلی تھی۔ اس لئے وہ آریہ سماجیوں کی طرح جیو اور پر مانو کو انادی اور خود بخود خیال نہیں کرتے تھے بلکہ جیسا کہ ان کی تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے اُن کا یہی عقیدہ تھا کہ ہر ایک چیز پر میشر سے نکلی ہے یعنی اس کے کلمات ہیں۔ یہی مذہب اسلام کا ہے (سوسیانے اگومت مورکھ آپو اپنی ) وہ لوگ آریہ صاحبوں کی طرح صرف زبان کی چالا کی پر دھرم کا مدار نہیں رکھتے تھے بلکہ ریاضت سے محنت سے جپ سے تپ سے سچے دل کے ساتھ اپنے پر میشر کو