سناتن دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 472 of 566

سناتن دھرم — Page 472

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۷۰ سناتن دھرم بے اختیار رام رام کہنا شروع کر دیا اور باقی آریہ صاحبان اپنی چادروں میں اپنا منہ چھپا کر ہنسنے لگے اور غالباً اُس وقت تین آدمی کے قریب گواہ ہوں گے جب کہ اس پنڈت نے یہ قابل شرم کلمہ اپنے منہ سے نکالا۔ سخت افسوس ہے کہ آریہ صاحبان یہ تو نہیں کرتے کہ اس رسم کو دور کر دیں بلکہ اُلٹے جوش میں آکر کہتے ہیں کہ کیا مسلمان متعہ نہیں کرتے یعنی منکوحہ عورتوں کو طلاق نہیں دیتے بہتر سمجھایا گیا کہ اے حضرات کجا طلاق دینا جو ضرورتوں کے وقت تمام دنیا میں جاری ہے اور کجا یہ کام کہ ایک مرد زندہ موجود اپنی عورت سے ایسا کام کر دے مگر یہ لوگ نہیں سمجھتے۔ سناتن دھرم کے لوگ کہ جو باحیا اور باغیرت لوگ ہیں وہ ندامت سے مرے جاتے ہیں گناہ ان کا اور ندامت اُن کو ۔ بارہا کہا گیا اگر ایک انسان جو نکاح کر کے کسی وقت عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور یا طلاق کا وقت مقرر کر دیتا ہے کہ اتنی مدت کے بعد میں طلاق دے دوں گا جس کا نام بعض شیعہ کے نزدیک متعہ ہے۔ اس نکاح کو آپ لوگوں کے طریق سے کچھ مناسبت نہیں اور ایسا نکاح بھی جس کا وقت طلاق ٹھہرایا جائے ہمارے مذہب میں منع ہے قرآن شریف صاف اس کی ممانعت فرماتا ہے۔ عرب کے لوگوں میں اسلام سے پہلے ایک وقت تک ایسے نکاح ہوتے تھے قرآن شریف نے منع کر دیا اور قرآن شریف کے اُترنے سے وہ حرام ہو گئے صرف بعض شیعوں کے فرقے اس کے پابند ہیں مگر وہ جاہلیت کی رسم میں گرفتار ہیں کسی دانشمند کے لئے جائز نہیں کہ اپنی غلطی کی پردہ پوشی کے لئے کسی دوسرے کی غلطی کا حوالہ دیں۔ کیا ایک مجرم کسی دوسرے مجرم کے حوالہ سے رہائی پاسکتا ہے۔ خدا کے کلام میں نکاح کرنے کے بارے میں تصریح کے ساتھ ہدایت موجود ہے اس میں ایسے نکاح کا ذکر نہیں جس میں بیان کیا جاتا ہے کہ اتنی مدت کے بعد میں طلاق دے دوں گا ماسوا اس کے اس صورت میں اصل اعتراض تو طلاق پر ہوا اور دنیا میں کوئی فرقہ