سناتن دھرم — Page 469
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۶۷ سناتن دھرم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نحمده ونصلى على رسوله الكريم اگر چہ میں نے کتاب نسیم دعوت میں نیوگ کے بارے میں جہاں تک مناسب تھا کچھ ذکر کیا ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ وہ ایک طالب حق کے لئے بہت مفید اور کافی ہے۔ لیکن میں نے بعض لوگوں کی زبانی سنا ہے کہ پنڈت رام بھجدت صاحب پریزیڈنٹ آریہ مذہبی سجھا پنجاب آریہ سماج کے جلسہ قادیان میں میری کتاب نسیم دعوت پہنچنے کے بعد اپنی آخری تقریر میں میرا ذکر کر کے فرماتے تھے کہ اگر وہ مجھ سے اس بارے میں گفتگو کرتے تو جو کچھ نیوگ کرانے کے فائدے ہیں میں سب اُن کے پاس بیان کرتا۔ الہذا بادب گزارش ہے کہ میں نے جس قدر انسانی غیرت اور انسانی پاک کانشنس کا تقاضا ہے وہ نیک نیتی سے اپنی کتاب نسیم دعوت میں بیان کیا ہے۔ میری غرض اس سے کوئی بحث مباحثہ نہیں تھا صرف ہمدردی کی راہ سے ایک نصیحت تھی ۔ اور میں اس بات میں اکیلا نہیں ہزار ہا شریف ہندو اور شریف خالصہ مذہب کے پابند سکھ اس بات کو ہرگز جائز نہیں سمجھتے کہ ایک خاوند والی اور خاندان والی عورت محض اولاد کے لالچ سے دوسرے سے مونہہ کالا کراوے اور خاوند زندہ موجود ہو۔ رہے نیوگ کے فائدے اور غالباً پنڈت صاحب کا فوائد سے مطلب نیوگ کی اولاد ہوگی کہ مفت میں گیارہ لڑکے پیدا ہو جاتے ہیں اور اس طرح پر اولاد بڑھتی ہے لیکن پنڈت صاحب ناراض نہ ہوں ایسی اولا د تو شریف آدمی کے لئے ایک داغ ہے نہ جائے فخر میرے نزدیک ایک پاک دامن عورت اگر تمام عمر بے اولا د ر ہے تو بے اولا د مرنا اس سے بہتر