سناتن دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 470 of 566

سناتن دھرم — Page 470

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۶۸ سناتن دھرم ہے کہ غیر سے ہمبستر ہو کر ایسی اولاد حاصل کرے کہ عند العقل نا جائز اولا دکہلا وے۔ اور اگر سچائی کچھ چیز ہے تو پھر کیا وجہ کہ بچوں کو اس بد قسمت دیوث کی اولاد کبھی جائے جس کے نطفہ سے وہ بچے نہیں ہیں بلکہ وہ تو اُن لوگوں کی اولاد ہیں جس کا وہ نطفہ ہیں۔ کاش اگر (۲) ایسی عورت ایسی اولاد حاصل کرنے سے پہلے ہی مر جائے تو بہتر ہے۔ پنڈت رام بھجدت صاحب کو اس قابل شرم نیوگ کے مسئلہ میں بہت ضد نہیں کرنی چاہئے بلکہ چونکہ یہ مسئلہ انسانی حیا کے مخالف ہے اس لئے مناسب ہے کہ اس مسئلہ کو آریہ سماج کے مسائل میں سے کاٹ دیا جائے۔ اور عام اشتہار دیا جائے کہ دیانند نے بوجہ مجردانہ زندگی اور نہ محسوس کرنے اُس غیرت کے کہ جو خانہ داری کی حالت میں ہر ایک شریف مرد کو اپنی بیوی کی نسبت ہوتی ہے سخت غلطی کھائی۔ اس لئے آریہ سماج اپنے اصولوں سے اس کو خارج کرتا ہے اور اس پر بہت سے دستخط ہو جانے چاہئے تا پھر کسی معترض کو دم مارنے کی جگہ نہ رہے ور نہ یا درکھیں کہ نیوگ کا اصول ان کے مذہب کے لئے ایک روگ ہے اور میں نہیں قبول کرسکتا کہ پاکدامن عورتیں نیوگ کے لئے تیار ہو جائیں گی بلکہ مجھے تو یہ اندیشہ ہے کہ اس پر زور دینے سے کوئی عورت زہر کھا کر مر نہ جائے ۔ اے صاحبان اور تو ہوا جو ہوا اس بلا کو تو اپنی قوم میں سے جلد دفع کرو اور خواہ نخواہ اُس کو دید کے ذمہ مت لگاؤ۔ یہ امیدمت رکھو کہ آریہ ورت کے شریف مرد اور شریف عورتیں اس کو قبول کر لیں گے بلکہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ ہندو مذہب میں متبنی کی رسم نیوگ کی وجہ سے ہی پیدا ہوئی ہے یعنی جب شریف مردوں اور شریف عورتوں نے دیکھا کہ یہ ناپاک رسم ہے تو اس کی جگہ حمله آریہ ورت کی عورتوں کو اب تک اپنے خاوندوں سے ایسا سچا تعلق رہا ہے کہ وہ ان کے لئے ستی ہوتی رہی ہیں لیکن ایسی عورت کہ خاوند سر پر موجود ہے اور وہ دوسروں سے ہم بستر ہوتی پھرتی ہے کیونکر ایسی محبت خاوند سے رکھ سکتی ہے۔ منہ