سبز اشتہار

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 485 of 548

سبز اشتہار — Page 485

ترجمہ فارسی عبارات صفحہ ٹائٹل بار اوّل۔اللہ کا شکر ہے کہ یہ جو اہرات کا سرمہ راستی اور صدق کے پہاڑ سے ظاہر ہو گیا۔سُرمہ سے انکار نہ کر اگر تجھے آنکھ کی روشنی درکار ہے کیونکہ عقلمند جان ودل سے چشم بینا کو پسند کرتا ہے۔وہ لوگ جن کی دل کی آنکھ پر پردہ پڑا ہے یقینا وہی ہیں جو اس سرمہ سے بے خبر ہیں صفحہ ۴۹۔اے دلبر محبوب اور دلدار اے جہاں کی جان اور نوروں کے نور۔جان ودل تیرے جلال سے کانپ رہے ہیں قلوب اور نظریں تیرے رخ کو دیکھ کر حیران ہیں۔تیری ذات کے بارے میں حیرت ہی حیرت ہے غور وفکر سے جب بھی دیکھا جائے۔تو آپ غیب میں ہے مگر تیری قدرت ظاہر ہے تو مخفی ہے مگر تیرے کام نمایاں ہیں۔تو دور ہے مگر جان سے بھی زیادہ نزدیک ہے تو نور ہے مگر اندھیری رات سے زیادہ پوشیدہ۔وہ کون ہے جس نے تیری انتہا کو پایا اور وہ کون ہے جو تیرے بھیدوں پر حاوی ہو گیا۔تو نے محض قدرت سے دونوں جہان پیدا کر دئیے بغیر مادہ کے اور بغیر مددگاروں کی امداد کے صفحہ ۵۰۔پھر لطف یہ ہے کہ (ان نعمتوں میں کوئی کمی) نہیں پڑتی باوجود یکہ تیری بخششیں بے حد ہیں۔تیرا حسن ہر حسن سے بے نیاز کر دیتا ہے اور تیری محبت ہر دوست کو چھڑا کر اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔اگر تیرا نمکین حسن نہ ہوتا تو دنیا میں حسن کا نام ونشان نہ ہوتا۔محبوبوں کے چہروں نے تجھ سے رونق پائی پھول نے چمن میں تجھ سے رنگ حاصل کیا۔حسینوں کے پاس جو سیب جیسے رخسار ہیں یہ انہی اونچے درختوں سے آئے ہیں۔یہ دونوں بھی اسی ملک سے آتے ہیں حسینوں کے گیسو اور تاتار کا مشک۔تیرے جمال کی نمایش کے لئے میں ہر چیز کو آئینہ سمجھتا ہوں