سبز اشتہار — Page 486
۔ہر پتّا ہدایت کی ایک کتاب ہے ہر ذات وصفت تجھے دکھانے کے لئے مشعلچی ہے۔ہر نفس تیرا راستہ دکھاتا ہے اور ہر جان بھی اس بات کی ہی آواز دیتی ہے۔ہر ذرہ تیرا نور پھیلاتا ہے ہر قطرہ تیری توصیف کی نہریں بہاتا ہے۔تیرے عجائبات کا ہر طرف شور ہے اور تیرے غرائب کا ہر جگہ ذکر ہے۔میں تیرے ذکر کی برکت سے انوار دیکھتا ہوں آہ وزاری کرنے والے عاشقوں کی جماعت میں۔وہ شخص جو تیری ِ قید محبت میں گرفتار ہو گیا پھر اس نے دوسروں کی نصیحت نہ سنی۔اے میرے مونس جاں ! تو کیسا دلستاں ہے کہ دفعتاً تو نے مجھے مد ہوش کر دیا۔تیری یاد میں میرا دل غم میں غرق ہو کر صدف کی طرح ایک موتی اپنے اندر پوشیدہ رکھتا ہے۔میری آنکھ اور سر تجھ پر قربان ہیں اور میرے جان ودل تیری محبت میں قید۔ہم نے نقد جان دے کر تیرا عشق خریدا ہے تا کہ پھر اور کوئی خریدار دم نہ مار سکے۔تیرے سوا اور کون میرے گریبان میں سے نمودار ہوتا جبکہ میرے دل میں اور کوئی بسنے والا ہی نہیں۔ایک عمر گزر گئی کہ ہم نے عزیزوں اور رشتہ داروں سے تعلق منقطع کر لیا مگر تیرے بغیر ایک لحظہ گزارنا بھی مشکل ہے صفحہ ۶۱۔دنیا کے تمام حسینوں کو زیوروں سے زینت دی جاتی ہے تو ایسا روپہلی بدن حسین ہے کہ زیوروں کو زینت بخشتا ہے صفحہ ۶۵۔کوئی کسی کے لئے سر نہیں دیتا نہ جان قربان کرتا ہے، عشق ہی ہے کہ یہ کام پوری وفاداری سے کراتا ہے صفحہ ۸۱۔تو نہ اتنا کھا کہ تیرے منہ سے نکلنے لگے اور نہ اتنا کہ کمزوری سے تیری جان ہی نکل جائے صفحہ ۹۳۔کیا تو نے زمینی کاموں کو درست کر لیا ہے کہ آسمانی کاموں کی طرف بھی متوجہ ہو گیا ہے صفحہ ۹۵۔فلسفی کی خدا کو پہچاننے والی آنکھ سخت اندھی ہوتی ہے اگرچہ بیکن ہو یا بو علی سینا ہو