سبز اشتہار — Page 480
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۶۶ سبز اشتہار ۲۰ کی روشنیوں کے بارے میں ایک ایسا اعتقاد دل میں جمالیا کہ جو خشک فلسفہ اور کورانہ نیچریت کے قریب قریب ہے انہیں سوچنا چاہیے تھا کہ مخالفین نے اپنی تکذیب کی تائید میں کون سا ثبوت دیا ہے؟ پھر اگر کوئی ثبوت نہیں اور نری بک بک ہے تو کیا فضول اور بے بنیاد افتراؤں کا اثر اپنے دلوں پر ڈال لینا عقلمندی یا ایمانی وثاقت میں داخل ہے۔ اور اگر فرض محال کے طور پر کوئی اجتہادی غلطی بھی کسی پیشگوئی کے تعلق اس عاجز سے ظہور میں آتی یعنی قطع اور یقین کے طور پر اُس کو کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع کیا جاتا تب بھی کسی دانا کی نظر میں وہ محل آویزش نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ اجتہادی غلطی ایک ایسا امر ہے جس سے انبیاء بھی باہر نہیں ماسوائے اس کے یہ عاجز اب تک قریب سات ہزار مکاشفات صادقہ اور الہامات صحیحہ سے خدا تعالی کی اور اس کے بعد جو حمل ہوا تو اس سے لڑکا پیدا ہوا اور پیشگوئی اپنے مفہوم کے مطابق سچی نکلی ۔ اور ٹھیک ٹھیک وقوع میں آگئی مگر مخالفین نے جیسا کہ ان کا قدیمی شیوہ ہے محض شرارت کی راہ سے یہ نکتہ چینی کی کہ پہلی دفعہ ہی کیوں لڑکا پیدا نہیں ہوا ان کو جواب دیا گیا کہ اشتہار میں پہلی دفعہ کی کوئی شرط نہیں بلکہ دوسرے حمل تک پیدا ہونے کی شرط تھی جو وقوع میں آگئی اور پیش گوئی نہایت صفائی سے پوری ہوگئی سوایسی پیش گوئی پر نکتہ چینی کرنا بے ایمانی کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔ کوئی منصف اس کو واقعی طور پر نکتہ چینی نہیں کہ سکتا۔ دوسری نکتہ چینی مخالفوں کی یہ ہے کہ لڑکا جس کے بارہ میں پیشگوئی ۔ اپریل ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں کی تھی وہ پیدا ہو کر صغرسنی میں فوت ہو گیا۔ اس کا مفصل جواب اسی تقریر میں مذکور ہے اور خلاصہ جواب یہ ہے کہ آج تک ہم نے کسی اشتہار میں نہیں لکھا کہ یہ لڑ کا عمر پانے والا ہوگا اور نہ یہ کہا کہ یہی مصلح موعود ہے۔ بلکہ ہمارے اشتہار ۲۰۔ فروری ۱۸۸۶ء میں بعض ہمارے لڑکوں کی نسبت یہ پیشنگوئی موجود تھی کہ وہ کم عمری میں فوت ہوں گے۔ پس سوچنا چاہیئے کہ اس لڑکے کی وفات سے ایک پیش گوئی پوری ہوئی یا جھوٹی نکلی۔ بلکہ جس قدر ہم نے لوگوں میں الہامات شائع کئے اکثر ان کے اس لڑکے کی وفات پر دلالت کرتے تھے چنانچہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار کی یہ عبارت کہ ایک خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ یہ مہمان کا لفظ در حقیقت اسی لڑکے کا نام رکھا گیا تھا اور یہ اس کی کم عمری اور جلد فوت ہونے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مہمان وہی ہوتا ہے جو چند روز رو کر چلا جاوے اور دیکھتے دیکھتے رخصت ہو جاوے اور جو قائم مقام ہو اور دوسروں کو رخصت کرے بقیه حاشیه