سبز اشتہار

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 481 of 548

سبز اشتہار — Page 481

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۶۷ سبز اشتہار کی طرف سے مشرف ہوا ہے اور آئندہ عجائبات روحانیہ کا ایسا بے انتہا سلسلہ جاری ہے کہ جو (۲) بارش کی طرح شب و روز نازل ہوتے رہتے ہیں۔ پس اس صورت میں خوش قسمت انسان وہ ہے کہ جو اپنے تئیں بصدق وصفا اس رہبانی کارخانے کے حوالہ کر کے آسمانی فیوض سے اپنے نفس کو متمتع کرے اور نہایت بد قسمت وہ شخص ہے کہ جو اپنے تئیں ان انوار و برکات کے حصول سے لا پروا رکھ کر بے بنیاد نکتہ چینیاں اور جاہلانہ رائے ظاہر کرنا اپنا شیوہ کر لیوے۔ میں ایسے لوگوں کو محض للہ متنبہ کرتا ہوں کہ وہ ایسے خیالات کو دل میں جگہ دینے سے حق اور ا حق بینی سے بہت دور جا پڑے ہیں۔ اگر ان کا یہ قول سچ ہو کہ الہامات و مکاشفات کوئی ایسی عمدہ چیز نہیں ہے جو خاص اور عوام یا کافر اور مومن میں کوئی امتیاز بین پیدا کر سکیں تو سالکوں اس کا نام مہمان نہیں ہو سکتا۔ اور اشتہار مذکور کی یہ عبارت کہ وہ رجس سے (یعنی گناہ سے ) بکنی پاک ۲۱ کی ہے یہ بھی اس کی صغرسنی کی وفات پر دلالت کرتی ہے اور یہ ھو کا کھانا نہیں چاہیے کہ جس پیش گوئی کا ذکر ہوا ہے وہ مصلح موعود کے حق میں ہے کیونکہ بذریعہ الہام صاف طور پر کھل گیا ہے کہ یہ سب عبارتیں پسر متوفی کے حق میں ہیں اور مصلح موعود کے حق میں جو پیشگوئی ہے وہ اس عبارت سے شروع ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ فضل ہے جو اُس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ پس مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیا اور نیز دوسرا نام اُس کا محمود اور تیسرا نام اس کا بشیر ثانی بھی ہے اور ایک الہام میں اس کا نام فضل عمر ظاہر کیا گیا ہے اور ضرور تھا کہ اس کا آنا معرض التوا میں رہتا جب تک یہ بشیر جو فوت ہو گیا ہے پیدا ہوکر پھر واپس اٹھایا جاتا کیونکہ یہ سب امور حکمت الہیہ نے اس کے قدموں کے نیچے رکھے تھے اور بشیر اول جو فوت ہو گیا ہے بشیر ثانی کے لئے بطور ار ہاص تھا اس لئے دونوں کا ایک ہی پیشگوئی میں ذکر کیا گیا۔ اب ایک منصف انصافاً سوچ کر دیکھے کہ ہماری ان دونوں پیشگوئیوں میں حقیقی طور پر کون سی غلطی ہے ؟ ہاں ہم نے پسر متوفی کے کمالات استعداد یہ الہامات کے ذریعہ سے ظاہر کئے تھے کہ وہ فطرتاً ایسا ہے اور ایسا ہے اور اب بھی ہم یہی کہتے ہیں اور فطرتی استعدادوں کا مختلف طور پر بچوں میں پایا جانا عام اس سے کہ وہ صغرسنی میں مرجا ویں یا زندہ رہیں ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر تمام مذاہب کا اتفاق ہے اور کوئی حکماء اور علماء میں سے اس کا منکر نہیں ہوسکتا۔ پس دانا کے لئے کون سی ٹھوکر کھانے کی وجہ ہے ہاں نادان اور احمق لوگ ہمیشہ سے ٹھوکر کھاتے چلے آئے ہیں بقیه حاشیه