سبز اشتہار — Page 477
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۶۳ سبز اشتہار ظلمت آئے گی اور پھر رعد اور برق۔ اسی ترتیب کے رو سے اس پیشگوئی کا پورا ہونا شروع ہوا یعنی پہلے بشیر کی موت کی وجہ سے ابتلا کی ظلمت وارد ہوئی اور پھر اس کے بعد رعد اور روشنی ظاہر ہونے والی ہے اور جس طرح ظلمت ظہور میں آگئی اسی طرح یقیناً جانا چاہیے کہ کسی دن وہ رعد اور روشنی بھی ظہور میں آ جائے گی جس کا وعدہ دیا گیا ہے۔ جب وہ روشنی آئے گی تو ظلمت کے خیالات کو بالکل سینوں اور دلوں سے مٹادے گی اور جو جو اعتراضات غافلوں اور مردہ دلوں کے منہ سے نکلے ہیں ان کو نا بود اور نا پد ید کردے گی یہ الہام جو ابھی ہم نے لکھا ہے ابتدا سے صدہا لوگوں کو بہت تفصیل سنا دیا گیا تھا چنانچہ منجملہ سامعین کے مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی بھی ہیں اور کئی اور جلیل القدر آدمی بھی۔ اب اگر ہمارے موافقین و مخالفین اسی الہام کے مضمون پر غور کریں اور دقت نظر سے دیکھیں تو یہی ظاہر کر رہا ہے کہ اس ظلمت کے آنے کا پہلے سے جناب الہی میں ارادہ ہو چکا تھا جو بذریعہ الہام بتلایا گیا اور صاف ظاہر کیا گیا کہ ظلمت اور روشنی دونوں اس لڑکے کے قدموں کے نیچے ہیں یعنی اس کے قدم اُٹھانے کے بعد جو موت سے مراد ہے اُن کا آنا ضرور ہے سواے وے لوگو! جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا حیرانی میں مت پڑو بلکہ خوش ہو اور خوشی سے اچھلو کہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی بشیر کی موت نے جیسا کہ اس پیشگوئی کو پورا کیا ایسا ہی اس پیشگوئی کو بھی کہ جو بقیہ حاشیہ جنہوں نے محض اللہ اس کی موت سے غم کیا اور اُس ابتلا کی برداشت کر گئے کہ جو اُس کی ےا ہے موت سے ظہور میں آیا۔ غرض بشیر ہزاروں صابرین وصادقین کے لئے ایک شفیع کی طرح پیدا ہوا تھا اور اُس پاک آنے والے اور پاک جانے والے کی موت ان سب مومنوں کے گناہوں کا کفارہ ہوگی ۔ اور دوسری قسم رحمت کی جو ابھی ہم نے بیان کی ہے اس کی تکمیل کے لئے خدا تعالیٰ دوسرا بشیر بھیجے گا جیسا کہ بشیر اول کی موت سے پہلے ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں اس کے بارے میں پیشگوئی کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا کہ ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا جس کا نام محمود بھی ہے وہ اپنے کاموں میں اولوالعزم ہوگا۔ یخلق الله ما یشاء اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ بھی ظاہر کیا کہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کی پیش گوئی حقیقت میں دو سعید لڑکوں کے پیدا ہونے پر مشتمل تھی اور اس عبارت تک کہ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے پہلے بشیر کی نسبت پیشگوئی ہے کہ جو روحانی طور پر نزول رحمت کا موجب ہوا اور اس کے بعد کی عبارت دوسرے بشیر کی نسبت ہے ۔ منہ