سبز اشتہار

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 476 of 548

سبز اشتہار — Page 476

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۶۲ سبز اشتہار ۱۲ پسر متوفی کی پیدائش کے دن میں ہوئے تھے ان سے بھی اجمالی طور پر اُس کی وفات کی نسبت بو آتی تھی اور مترشح ہوتا تھا کہ وہ خلق اللہ کے لئے ایک ابتلاء عظیم کا موجب ہوگا جیسا کہ یہ الهام إِنَّا أَرْسَلْنَاهُ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيْهِ ظُلُمَاتٌ وَ رَعْدٌ وَبَرْقٌ كُلُّ شَيْءٍ تَحْتَ قَدَمَيْهِ یعنی ہم نے اس بچہ کو شاہد اور مبشر اور نذیر ہونے کی حالت میں بھیجا ہے اور یہ اس بڑے مینہ کی مانند ہے جس میں طرح طرح کی تاریکیاں ہوں اور رعد اور برق بھی ہو یہ سب چیزیں اس کے دونوں قدموں کے نیچے ہیں یعنی اُس کے قدم اُٹھانے کے بعد جو اس کی موت سے مراد ہے ظہور میں آجائیں گی۔ سو تاریکیوں سے مراد آزمائش اور ابتلاء کی تاریکیاں تھیں جو لوگوں کو اس کی موت سے پیش آئیں اور ایسی سخت ابتلاء میں پڑ گئے جو ظلمات کی طرح تھا اور آیت کریمہ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا کے مصداق ہو گئے اور الہامی عبارت میں جیسا کہ ظلمت کے بعد رعد اور روشنی کا ذکر ہے یعنی جیسا کہ اُس عبارت کی ترتیب بیانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسر متوفی کے قدم اٹھانے کے بعد پہلی مومنوں پر طرح طرح کی مصیبتیں ڈالا کرتے ہیں اور صبر کرنے والوں پر ہماری رحمت بقیه حاشیه نازل ہوتی ہے اور کامیابی کی راہیں انہیں پر کھولی جاتی ہیں جو صبر کرتے ہیں۔ (۲) دوسرا طریق انزال رحمت کا ارسال مرسلین ونبین وائمہ و اولیاء وخلفا ہے ۔ تا اُن کی اقتداء و ہدایت سے لوگ راہ راست پر آجائیں اور اُن کے نمونہ پر اپنے تئیں بنا کر نجات پا جائیں سوخدائے تعالیٰ نے چاہا کہ اس عاجز کی اولاد کے ذریعہ سے یہ دونوں شق ظہور میں آجائیں۔ پس اول اُس نے قسم اول کے انزال رحمت کے لئے بشیر کو بھیجا تا بَشِّرِ الصَّابرین کا سامان مومنوں کے لئے طیار کر کے اپنی بشریت کا مفہوم پورا کرے سو وہ ہزاروں مومنوں کے لئے جو اس کی موت کے غم میں محض اللہ شریک ہوئے بطور فرط کے ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کا شفیع ٹھہر گیا اور اندر ہی اندر بہت سی برکتیں ان کو پہنچا گیا اور یہ بات کھلی کھلی الہام الہی نے ظاہر کر دی کہ بشیر جو فوت ہو گیا ہے وہ بے فائدہ نہیں آیا تھا بلکہ اس کی موت اُن سب لوگوں کی زندگی کا موجب ہوگی البقره :٢١