سبز اشتہار

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 474 of 548

سبز اشتہار — Page 474

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۶۰ سبز اشتهار ۱۳ دلایا گیا اُسی قدر اُن کی ہمت بلند اور ان کی شجاعت ذاتی جوش میں آتی گئی بالآخر وہ ان تمام امتحانات سے اول درجہ کے پاس یافتہ ہو کر نکلے اور اپنے کامل صدق کی برکت سے پورے طور پر کامیاب ہو گئے اور عزت اور حرمت کا تاج اُن کے سر پر رکھا گیا اور تمام اعتراضات نادانوں کے ایسے حباب کی طرح معدوم ہو گئے کہ گویا وہ کچھ بھی نہیں تھے غرض انبیاء و اولیاء ابتلاء سے خالی نہیں ہوتے بلکہ سب سے بڑھ کر انہیں پر ابتلاء نازل ہوتے ہیں اور انہیں کی قوت ایمانی ان آزمائشوں کی برداشت بھی کرتی ہے عوام الناس جیسے خدائے تعالیٰ کو شناخت نہیں کر سکتے ویسے اس کے خالص بندوں کی شناخت سے بھی قاصر ہیں بالخصوص اُن محبوبان الہی کی آزمائش کے وقتوں میں تو عوام الناس بڑے بڑے دھوکوں میں پڑ جاتے ہیں گویا ڈوب ہی جاتے ہیں اور اتنا صبر نہیں کر سکتے کہ ان کے انجام کے منتظر رہیں۔ عوام کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ جل شانہ جس پودے کو اپنے ہاتھ سے لگاتا ہے اُس کی شاخ تراشی اس غرض سے نہیں کرتا کہ اس کو نا بود کر دیوے بلکہ اس غرض سے کرتا ہے کہ تا وہ پودا پھول اور پھل زیادہ لاوے اور اُس کے برگ اور بار میں برکت ہو ۔ پس خلاصہ کلام یہ کہ انبیاء اور اولیاء کی تربیت باطنی اور تحمیل روحانی کے لئے ابتلاء کا ان پر وارد ہونا ضروریات سے ہے اور ابتلاء اس قوم کے لئے ایسا لازم حال ہے کہ گویا ان ربانی سپاہیوں کی ایک روحانی وردی ہے جس سے یہ شناخت کئے جاتے ہیں اور جس شخص کو اس سنت کے برخلاف کوئی کامیابی ہو وہ استدراج ہے نہ کامیابی ۔ اور نیز یا د رکھنا چاہیے کہ یہ نہایت درجہ کی بد قسمتی و نا سعادتی ہے کہ انسان جلد تر بدظنی کی طرف جھک جائے اور یہ اُصول قرار دے دیوے کہ دنیا میں جس قدر خدائے تعالیٰ کی راہ کے مدعی ہیں وہ سب مکار اور فریبی اور دوکاندار ہی ہیں کیونکہ ایسے ردی اعتقاد سے رفتہ رفتہ وجود ولایت میں شک پڑے گا اور پھر ولایت سے انکاری ہونے کے بعد نبوت کے منصب میں کچھ کچھ ترددات پیدا ہو جاویں گے