سبز اشتہار

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 473 of 548

سبز اشتہار — Page 473

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۵۹ سبز اشتہار نہ پا سکتے کہ جو ابتلاء کی برکت سے اُنہوں نے پالئے۔ ابتلاء نے اُن کی کامل وفاداری (۱۳ در مستقل ارادے اور جانفشانی کی عادت پر مہر لگا دی اور ثابت کر دکھایا کہ وہ آزمائش کے زلازل کے وقت کس اعلیٰ درجہ کا استقلال رکھتے ہیں اور کیسے بچے وفادار اور عاشق صادق ہیں کہ ان پر آندھیاں چلیں اور سخت سخت تاریکیاں آئیں اور بڑے بڑے زلزلے اُن پر وارد ہوئے اور وہ ذلیل کئے گئے اور جھوٹوں اور مکاروں اور بے عزتوں میں شمار کئے گئے اور ا کیلئے اور تنہا چھوڑے گئے یہاں تک کہ ربانی مردوں نے بھی جن کا ان کو بڑا بھروسہ تھا کچھ مدت تک منہ چھپا لیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی مربیانہ عادت کو بہ یکبارگی کچھ ایسا بدل دیا کہ جیسے کوئی سخت ناراض ہوتا ہے اور ایسا انہیں تنگی و تکلیف میں چھوڑ دیا کہ گویا وہ سخت مورد غضب ہیں اور اپنے تئیں ایسا خشک سا دکھلایا کہ گویا وہ اُن پر ذرا مہربان نہیں بلکہ اُن کے دشمنوں پر مہربان ہے اور اُن کے ابتلاؤں کا سلسلہ بہت طول کھینچ گیا ایک کے ختم ہونے پر دوسرا اور دوسرے کے ختم ہونے پر تیسرا ابتلاء نازل ہوا غرض جیسے بارش سخت تاریک رات میں نہایت شدت و سختی سے نازل ہوتی ہے ایسا ہی آزمائشوں کی بارشیں اُن پر ہوئیں پر وہ اپنے پکے اور مضبوط ارادہ سے باز نہ آئے اور سُست اور دل شکستہ نہ ہوئے بلکہ جتنا مصائب و شدائد کا بار اُن پر پڑتا گیا اتنا ہی انہوں نے آگے قدم بڑھایا اور جس قدر وہ تو ڑے گئے اُسی قدر وہ مضبوط ہوتے گئے اور جس قدر اُنہیں مشکلات راہ کا خوف پھر دیکھنا چاہیے کہ سیدنا ومولانا حضرت فخر الرسل و خاتم الانبیاءمحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتلاء کی حالت میں کیا کیا تکلیفیں اٹھائیں اور ایک دعا میں مناجات کی کہ اے میرے رب میں اپنی کمزوری کی تیری جناب میں شکایت کرتا ہوں اور اپنی بیچارگی کا تیرے آستانہ پر گلہ گزار ہوں میری ذلت تیری نظر سے پوشیدہ نہیں جس قدر چاہے تختی کر کہ میں راضی ہوں جب تک تو راضی ہو جائے مجھ میں بجز تیرے کچھ قوت نہیں ۔ منہ ۔