سبز اشتہار

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 472 of 548

سبز اشتہار — Page 472

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۵۸ سبز اشتہار ۱۲ سچے اور وفا دار عاشقوں کو ذلت کے ساتھ ہلاک کر ڈالے بلکہ حقیقت میں وہ ابتلاء کہ جو شیر ببر کی طرح اور سخت تاریکی کی مانند نازل ہوتا ہے اس لئے نازل ہوتا ہے کہ تا اس برگزیدہ قوم کو قبولیت کے بلند مینار تک پہنچادے اور الہی معارف کے بار یک دقیقے اُن کو سکھاوے۔ یہی سنت اللہ ہے۔ جو قدیم سے خدائے تعالیٰ اپنے پیاروں ، بندوں کے ساتھ استعمال کرتا چلا آیا ہے زبور میں حضرت داؤد کی ابتدائی حالت میں عاجزانہ نعرے اس سنت کو ظاہر کرتے ہیں اور انجیل میں آزمائش کے وقت میں حضرت مسیح کی غریبانه تضرعات اسی عادت اللہ پر دال ہیں اور قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں جناب فخر الرسل کی عبودیت سے ملی ہوئی ابتہالات اسی قانون قدرت کی تصریح کرتے ہیں اگر یہ ابتلاء درمیان میں نہ ہوتا تو انبیاء اور اولیاء اُن مدارج عالیہ کو ہرگز زبور میں حضرت داؤد علیہ السلام کی دعاؤں میں سے جو انہوں نے ابتلائی حالت میں حاشیه کیں ایک یہ ہے اے خدا تو مجھ کو بچالے کہ پانی میری جان تک پہنچے ہیں۔ میں گہری کیچ میں پھنس چلا جہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہیں ۔ میں چلاتے چلاتے تھک گیا۔ میری آنکھیں دھندلا گئیں۔ وہ جو بے سبب میرا کینہ رکھتے ہیں۔ شمار میں میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں۔ اے خداوند رب الافواج وہ جو تیرا انتظار کرتے ہیں میرے لئے شرمندہ نہ ہوں۔ وہ جو تجھے کو ڈھونڈتے ہیں وہ میرے لئے ندامت نہ اٹھا دیں۔ وے پھاٹک پر بیٹھے ہوئے میری بابت بکتے ہیں اور نشے باز میرے حق میں گاتے ہیں۔ تو میری ملامت کشی اور میری رسوائی اور میری بے حرمتی سے آگاہ ہے۔ میں نے تا کا کہ کیا کوئی میرا ہمدرد ہے کوئی نہیں۔ (دیکھو ز بور ۶۹) ایسا ہی حضرت مسیح علیہ السلام نے ابتلاء کی رات میں جس قدر تضرعات کئے وہ انجیل سے ظاہر ہیں تمام رات حضرت مسیح جاگتے رہے اور جیسے کسی کی جان ٹوٹتی ہے غم واندوہ سے ایسی حالت ان پر طاری تھی وہ ساری رات رو رو کر دعا کرتے رہے کہ تا وہ بلا کا پیالہ کہ جو ان کے لئے مقدر تھائل جائے پر با وجود اس قدر گریہ وزاری کے پھر بھی دعا منظور نہ ہوئی کیونکہ ابتلاء کے وقت کی دعا منظور نہیں ہوا کرتی ۔