روئداد جلسۂ دعا — Page 670
20 مسلمانوں کو دین کے معاملے میں جبر اور جہاد سے روکنا ۱۵۶ دین کے پھیلانے کے لئے جنگ خلافِ ہدایت قرآن ہے ۱۳۰ح جن کے ہاتھ میں خدا سچائی اور آسمانی نشانوں کی تلواریں دے انہیں لوہے کی تلوار کی کیا ضرورت ۱۵۸ جنگ سے مراد زبانی مباحثات ۱۳۰ح جن کے پاس دین پھیلانے کے لئے تلوار ہے وہ درندوں کی طرح ہیں اور تعریف کے لائق نہیں ۱۳۱ح اس اعتراض کا رد کہ اسلام نے دین کو جبراً پھیلانے کے لئے تلوار اٹھائی ہے ۱۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی عربی، فارسی کتابوں میں جہاد کی حقیقت کو بیان کیا ہے ۴ مختلف ممالک میںآ پ کی کتابوں کا پھیلایا جانا اور مسلمانوں کا جہاد کے غلط خیالات کا چھوڑنا ۱۱۴ عرب شام وغیرہ میں جہاد سے متعلقہ کتب کی اشاعت ۵ اس وقت کے غیر قوم کے بادشاہ اسلام کی مذہبی آزادی کو نہیں روکتے پھر کیوں تلوار اٹھائی جائے ۱۱ مسلمانوں کو بطور مدافعت اور حفاظت خود اختیار لڑنے کی اجازت کا دیا جانا۔تین قسم کے شرعی جہاد ۴ اس ملک کے مسلمانوں کا جہاد کا نظریہ بہت کچھ اصلاح پذیر ہو گیا ہے ۱۲۰ آنحضرت ؐ اور صحابہ کی جنگوں کی وجوہات ۲۴۶ صلیبی واقعہ کی اصل حقیقت کسی جنگ اور لڑائی کے بغیر محض آسمانی اسباب سے کھلے گی ۶۴ اسم احمد میں جہاد کے متعلق مخفی پیشگوئی ۵۲۷ جہاد کے حوالے سے دو قسم کے مسلمان ۵۱۹ جین مت ان کی رحمدلی کا ذکر ۴ اس مذہب میں کسی جاندار کو مارنا روا نہیں ۱۶۳ ح،خ حدیث اس عقیدہ کا رد جس کے مطابق صرف وہی قول حدیث ہے جو مرفوع متصل ہو اور منقطع نہ ہو ۵۷۰۔۵۷۱ کاشتکاری میں ذلت کے متعلق احادیث ۴۴۹ مسیح موعود کے ہاتھ پر کسر صلیب ہو گا ۶۴،۲۴۵ مسیح موعود کے عہد میں تمام ملتیں ہلاک ہونے سے مراد ۲۶ اذا ھلک کسرٰی والی حدیث کی لطیف تشریح ۳۷۹ حکومت حکومت عام اور حاکم عام سے مراد برگزیدوں کو دی جانے والی آسمانی حکومت ہے ۱۳۳ح خدا کی اطاعت کے ساتھ حکومت کی اطاعت کا حکم ۶۱۹ خلافت خلیفہ ظلی طور پر خدا کی ربوبیت کا مظہر ہوتا ہے ۶۰۲ روحانی مرشد خدا کی منشا اور توفیق سے تربیت کرتا ہے ۶۰۴ سورۃ الناس میں خدا کی اطاعت کے ساتھ مرشد کی اطاعت کا حکم ۶۱۹ اسلام میں عرصہ دراز تک ایسے بادشاہوں میں خلافت رہی جوعلم کی توسیع زیادہ چاہتے تھے ۶۰ خُلق انسان کی بدی کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنی عورت کی ہمدردی سے لاپروا ہو ۸۹ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دینے کی تعلیم کے ناقص ہونے کا ذکر ۱۶۲،۱۶۳ عُجب اور شہوت وغیرہ قوتیں مناسب استعمال کے لئے پیدا کی گئی ہیں ۱۶۲ کسی کو جبر و اکراہ سے دین میں داخل کرنے سے اخلاق فاصلہ کا نام و نشان نہیں رہتا