روئداد جلسۂ دعا — Page 626
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۲۶ رونداد جلسه دعا زیادہ تو قف پسند نہیں فرماتے ہیں اس لئے تاریخ مقررہ اشتہار کی انتظار کر کے پانسوروپے کی رقم جناب چیف سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب کی خدمت میں ارسال کر دی گئی چنانچہ جو رسید صاحب بہادر موصوف کی طرف سے آئی ہے وہ آگے ہم درج کرتے ہیں۔ لیکن پیشتر اس کے کہ ہم رسید لکھیں اس امر کا ظاہر کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ حضرت اقدس ان لوگوں پر جنہوں نے اپنی اپنی استطاعت اور حیثیت کے مطابق زخمیان و بیوگان و یتیمان سرکار برطانیہ کی ہمدردی اور امداد کی ہے بہت ہی خوش ہوئے ہیں اور مہار کی ہے اُن لوگوں کو جنہوں نے امام برحق کے ارشاد کی تعمیل کر کے نہ صرف اپنے پیر و مرشد کو خوش کیا بلکہ حقیقی مالک الملک اور مجازی حکام کی خوشنودی کے باعث ہوئے کیونکہ زمین و آسمان کے بادشاہ نے اس کتاب پاک میں جو اہل اسلام کے ہاتھ میں ہے حق اللہ کے بعد حق العباد کے طوظ رکھنے کا سخت حکم فرمایا ہے اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کو اپنی خوشنودی اور رضامندی کا سبب ٹھہرایا ہے خواہ وہ انسان کسی مذہب اور کسی ملت کا ہو خواہ وہ مشرق کا ہو یا مغرب کا سب کی ہمدردی کا حکم فرمایا ہے اور پھر جو حسن ہو اور ہمارے حقوق کی حفاظت کرتا ہو اُس کی ہمدردی بدرجہ اولیٰ ضروری ہے ۔ اس سرکار برطانیہ سے بڑھ کر کون زیادہ محسن اور خیر خواہ ہے جس نے اسلام والوں کی بہت سے موقعوں پر مدد کی ہے اور خطرناک اور جانکاہ مصائب سے نجات دے کر کنارہ امن و عافیت میں جگہ دی ہے۔ جو چندہ کہ اس غریب جماعت کی طرف سے بھیجا گیا تھا وہ عالی شان گورنمنٹ کے مقابلہ میں ایک نہایت ہی قلیل تھا لیکن اُس عالی حوصلہ گورنمنٹ نے اس کو بڑی عزت کے ساتھ قبول فرمایا اور مزید براں مسرت بھی ظاہر کی ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو حکام وقت کی خوشی اور غمی میں شریک ہو کر مراتب حاکمانہ و محکومانہ کو مد نظر رکھتے ہیں اور کیا ہی بلند حوصلہ اور عالی شان ہے وہ گورنمنٹ جو اپنی رعایا کے غریبانہ چندوں اور مبارک بادیوں کو عظمت اور عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ کیا یہ کم قدر افزائی کی بات ہے کہ پانسو کی ذلیل رقم پر جناب نواب لفٹنٹ گورنر صاحب بہادر بالقابہ نے خوشنودی کی رسید ارسال فرمائی اور فتوحات افریقہ