روئداد جلسۂ دعا — Page 608
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۰۸ رونداد جلسه دعا (۱) خدا تعالی کی طرف سے سلطنت نے ہر قسم کی آزادی دے رکھی ہے طرح طرح کے پھل اور غذا ئیں میسر آتی ہیں کوئی آسایش و آرام کا سامان نہیں جو آج مہیا نہ ہو سکتا ہو ۔ با ایں ہمہ جو پر واہ نہیں کی گئی اس کی کیا وجہ ہے یہی کہ دلوں میں ایمان نہیں رہا۔ افسوس خدا کا ایک ادنی بھنگی کے برابر بھی لحاظ نہیں کیا جا تا گویا یہ خیال ہے کہ خدا سے کبھی واسطہ ہی نہ ہوگا اور نہ کبھی اُس سے پالا پڑے گا ۔ اور اُس کی عدالت کے سامنے جانا ہی نہیں ہوگا۔ کاش منکر غور کریں اور سوچیں کہ کروڑوں سورجوں کی روشنی سے بھی بڑھ کر خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت ہیں افسوس کی جگہ ہے کہ ایک جو تہ کو دیکھ کر یقینی طور پر سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس کا کوئی بنانے والا ہے مگر یہ کس قدر بد بختی ہے کہ خدا تعالیٰ کی بے انتہا مخلوق کو دیکھ کر بھی اُس پر ایمان نہ ہو یا ایسا ایمان ہو جو نہ ہونے میں داخل ہے خدا تعالیٰ کی ہم پر بہت رحمتیں ہیں ازاں جملہ ایک یہ ہے کہ اُس نے ہم کو جلتے ہوئے تنور سے نکالا سکھوں کا زمانہ ایک آتشی تنور تھا اور انگریزوں کا قدم رحمت و برکت کا قدم ہے۔ میں نے سنا ہے کہ جب اوّل ہی اوّل انگریز آئے تو ہوشیار پور میں کسی مؤذن نے اونچی اذان کہی چونکہ ابھی ابتدا تھی اور ہندوؤں اور سکھوں کا خیال تھا کہ یہ بھی اونچی اذان کہنے پر روکیں گے یا ان کی طرح اگر گائے کو کسی سے زخم لگ جائے تو اُس کا ہاتھ کاٹیں گے اس اونچی اذان کہنے والے موذن کو پکڑ لیا۔ ایک بڑا بھاری ہجوم ہو کر ڈپٹی کمشنر کے سامنے