روئداد جلسۂ دعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 607 of 769

روئداد جلسۂ دعا — Page 607

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۰۷ رونداد جلسه دعا ۔ سے جو وقتاً فوقتاً انہوں نے مختلف موقعوں پر کی ہیں صاف معلوم ہو گیا (۱۵) ہے کہ وہ مذہبی مکانات کی کیسی عزت کرتے ہیں پھر دیکھو کہ گورنمنٹ نے کہیں منادات نہیں کی کہ کوئی بآواز بلند بانگ نہ دے یا روزہ نہ رکھے بلکہ انہوں نے ہر قسم کے تغذیہ کے سامان مہیا کئے ہیں جس کا سکھوں کے ذلیل زمانہ میں نام و نشان تک نہ تھا ۔ برف سوڈا واٹر اور بسکٹ ڈبل روٹی وغیرہ ہر قسم کی غذا ئیں بہم پہنچا ئیں اور ہر قسم کی سہولت دے رکھی ہے ۔ یہ ایک ضمنی امداد ہے جو ان لوگوں سے ہمارے شعائر اسلام کو پہنچی ہے ۔ اب اگر کوئی خود روزہ نہ رکھے تو یہ اور بات ہے افسوس کی بات ہے کہ مسلمان خود شریعت کی تو ہین کرتے ہیں ۔ چنانچہ دیکھو جنہوں نے ان دنوں روزے رکھے ہیں ۔ وہ کچھ د بلے نہیں ہو گئے اور جنہوں نے استخفاف کے ساتھ اس مہینہ کو گزارا ہے وہ کچھ موٹے نہیں ہو گئے ان کا بھی وقت گذر گیا اور ان کا بھی زمانہ گذر گیا ۔ جاڑہ کے روزے تھے صرف غذا کے اوقات کی ایک تبدیلی تھی سات آٹھ بجے نہ کھائی چار پانچ بجے کھالی با وجود اس قدر رعایت کے پھر بھی بہتوں نے شعائر اللہ کی عظمت نہیں کی اور خدا تعالیٰ کے اس واجب التكريم مهمان ماه رمضان کو بڑی حقارت سے دیکھا ۔ اس قدر آسانی کے مہینوں میں رمضان کا آنا ایک قسم کا معیار تھا اور مطیع و عاصی میں فرق کرنے کے لئے یہ روزے میزان کا حکم رکھتے تھے