روئداد جلسۂ دعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 606 of 769

روئداد جلسۂ دعا — Page 606

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۰۶ رونداد جلسه دعا ۱۳) پوری آزادی دے رکھی ہے اور کسی کے مال و جان و آبرو سے کوئی ناحق کا تعرض نہیں بر خلاف اُس پرفتن وقت کے کہ ہر ایک شخص کیسا ہی اس کا حساب پاک ہو اپنی جان و مال پر لرزتا رہتا تھا ۔ اب اگر کوئی خود اپنا چلن آپ خراب کر لے اور اپنی کج روی اور بے اندامی اور ارتکاب جرائم سے خود مستوجب عقوبت ٹھہر جائے تو اور بات ہے ۔ یا خود ہی سوء اعتقاد اور غفلت کی وجہ سے عبادت میں کوتاہی کرے تو جدا امر ہے لیکن گورنمنٹ کی طرف سے ہر طرح کی پوری آزادی ہے ۔ اس وقت جس قدر عابد بننا چاہو بنو کوئی روک نہیں گورنمنٹ خود معابد مذہبی کی حرمت کرتی ہے اور اُن کی مرمت وغیرہ پر ہزاروں روپیہ خرچ کر دیتی ہے ۔ سکھوں کے زمانہ میں اس کے خلاف یہ حال تھا کہ مسجدوں میں بھنگ گھٹتی تھی اور گھوڑے بندھتے تھے جس کا نمونہ خود یہاں قادیان میں موجود ہے اور پنجاب کے بڑے بڑے شہروں میں اس کے بکثرت نمونے ملیں گے ۔ لاہور میں آج تک کئی ایک مسجد میں سکھوں کے قبضہ میں ہیں ۔ آج اس کے مقابل میں گورنمنٹ انگلشیہ ان بزرگ مکانوں کی ہر قسم کی واجب عزت کرتی ہے اور مذہبی مکانات کی تعظیم و تکریم اپنے فرائض میں سے سمجھتی ہے جیسا کہ ان ہی دنوں حضور وائسرائے لارڈ کرزن صاحب بہادر بالقابہ نے دہلی کی جامع مسجد میں جوتا پہن کر جانے کی مخالفت اپنی عملی حالت سے ثابت کر دی اور قابل اقتدا نمونہ بادشاہانہ اخلاق فاضلہ کا دیا اور اُن کی اُن تقریروں