روئداد جلسۂ دعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 605 of 769

روئداد جلسۂ دعا — Page 605

روحانی خزائن جلد ۱۵ رونداد جلسه دعا سے اب ہم اپنی جماعت کو اور تمام سننے والوں کو بڑی صفائی اور وضاحت (۱۳) سے سناتے ہیں کہ سلطنت انگریزی ہماری محسن ہے اُس نے ہم پر بڑے بڑے احسان کئے ہیں ۔ جس کی عمر ساٹھ یا ستر برس کی ہوگی وہ خوب جانتا ہوگا کہ ہم پر سکھوں کا ایک زمانہ گذرا ہے اس وقت مسلمانوں پر جس قدر آفتیں حائل تھیں وہ پوشیدہ نہیں ہیں اُن کی یاد سے بدن پر لرزہ پڑتا ہے اور دل کانپ اٹھتا ہے۔ اُس وقت مسلمانوں کو عبادات اور فرائض مذہبی کی بجا آوری جن کا بجالانا ان کو جان سے عزیز تر ہے روکا گیا تھا ۔ بانگ نماز جو نماز کا مقدمہ ہے اس کو بآواز بلند پکارنے سے منع کیا گیا تھا۔ اگر کبھی مؤذن کے منہ سے سہواً الله اكبر بآواز بلند نکل جاتا تو اُس کو مار ڈالا جاتا تھا اسی طرح پر مسلمانوں کے حلال وحرام کے معاملہ میں بے جا تصرف کیا گیا تھا۔ ایک گائے کے مقدمہ میں ایک دفعہ پانچ ہزار غریب مسلمان قتل کئے گئے ۔ بٹالہ کا واقعہ ہے کہ ایک سید وہیں کا رہنے والا باہر سے دروازہ پر آیا وہاں گائیوں کا ہجوم تھا اس نے تلوار کی نوک سے ذرہ ہٹایا ایک گائے کے چھڑے کو اتفاق سے خفیف سی خراش پہنچ گئی اس بے چارہ کو پکڑ لیا گیا اور اس امر پر زور دیا گیا کہ اس کو قتل کر دیا جائے ۔ آخر بڑی سفارشوں کے بعد جان سے بچ گیا لیکن اُس کا ہاتھ ضرور کاٹا گیا مگر اب دیکھو کہ ہر قوم و مذہب کے لوگوں کو کیسی آزادی ہے ہم صرف مسلمانوں ہی کا ذکر کرتے ہیں فرائض مذہبی اور عبادات کے بجا لانے میں سلطنت نے