رازِ حقیقت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 550

رازِ حقیقت — Page 167

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۶۷ راز حقیقت خط مولوی عبداللہ صاحب باشندہ کشمیر فائدہ عام کے لئے معہ نقشہ مزار حضرت عیسی علیہ السلام اس اشتہار میں شائع کیا جاتا ہے ۱۵ از جانب خاکسار عبدالله بخدمت حضور مسیح موعود السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته حضرت اقدس ! اس خاکسار نے حسب الحکم سرینگر میں عین موقعہ پر یعنی روضہ مزار شریف شاہزادہ یوز آسف نبی اللہ علیہ الصلوۃ والسلام پر پہنچ کر جہاں تک ممکن تھا بکوشش تحقیقات کی اور معمر اور سن رسیدہ بزرگوں سے بھی دریافت کیا اور مجاوروں اور گرد و جوار کے لوگوں سے بھی ہر ایک پہلو سے استفسار کرتا رہا۔ جناب من عند التحقیقات مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ مزار در حقیقت جناب یوز آسف علیہ السلام نبی اللہ کی ہے اور مسلمانوں کے محلہ میں یہ مزار واقع ہے۔ کسی ہندو کی وہاں سکونت نہیں اور نہ اُس جگہ ہندوؤں کا کوئی مدفن ہے۔ اور معتبر لوگوں کی شہادت سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ قریباً انیس نشنوا برس سے یہ مزار ہے۔ اور مسلمان بہت عزت اور تعظیم کی نظر سے اس کو دیکھتے ہیں اور اس کی زیارت کرتے ہیں ۔ اور عام خیال ہے کہ اس مزار میں ایک بزرگ پیغمبر مدفون ہے جو کشمیر میں کسی اور ملک سے لوگوں کو نصیحت کرنے کے لئے آیا تھا۔ اور کہتے ہیں کہ یہ نبی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قریبا چھ سو برس پہلے گذرا ہے۔ یہ اب تک نہیں کھلا کہ اس ملک میں کیوں آیا۔ مگر یہ واقعات بہر حال ثابت ہو چکے ہیں۔ ۱۲ کے حاشيه من المشتهر وہ نبی جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گزرا ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام ہیں اور کوئی نہیں ۔ اور یسوع کے لفظ کی صورت بگڑ کر یوز آسف بننا نہایت قرین قیاس ہے کیونکہ جب کہ یسوع کے لفظ کو انگریزی میں بھی جیزس بنالیا ہے تو یوز آسف میں جیزس سے کچھ زیادہ تغیر نہیں ہے۔ یہ لفظ سنسکرت سے ہرگز مناسبت نہیں رکھتا۔ صریح عبرانی معلوم ہوتا ہے اور یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام اس ملک میں کیوں تشریف لائے اس کا سبب ظاہر ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جبکہ ملک شام کے یہودیوں نے آپ کی تبلیغ کو قبول نہ ۱۷ کیا اور آپ کو صلیب پر قتل کرنا چاہا تو خدا تعالیٰ نے اپنے وعدے کے موافق اور نیز دعا کو قبول کر کے حضرت مسیح کو صلیب سے نجات دے دی۔ اور جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے حضرت مسیح کے دل میں تھا کہ اُن یہودیوں کو بھی خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیں کہ جو بخت النصر کی غارت گری کے زمانہ میں ہندوستان کے