رازِ حقیقت — Page 168
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۶۸ راز حقیقت اور تو اتر شہادت سے کمال درجہ کے یقین تک پہنچ چکے ہیں کہ یہ بزرگ جن کا نام کشمیر کے مسلمانوں نے یوز آسف رکھ لیا ہے یہ نبی ہیں اور نیز شہزادہ ہیں۔ اس ملک میں کوئی ہندوؤں کا لقب ان کا مشہور نہیں ہے جیسے راجہ یا اوتار یا رکھی ومنی وسندہ وغیرہ بلکہ بالا تفاق سب نبی کہتے ہیں اور نبی کا لفظ اہل اسلام اور اسرائیلیوں میں ایک مشترک لفظ ہے۔ اور جبکہ اسلام میں کوئی نبی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آیا اور نہ آ سکتا تھا اس لئے کشمیر کے عام مسلمان بالاتفاق یہی کہتے ہیں کہ یہ نبی اسلام کے پہلے کا ہے۔ ہاں اس نتیجہ تک وہ اب تک نہیں پہنچے کہ جبکہ نبی کا لفظ صرف دو ہی قوموں کے نبیوں میں مشترک تھا یعنی مسلمانوں اور بنی اسرائیل کے نبیوں میں اور اسلام میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آ نہیں سکتا تو بالضرور یہی متعین ہوا کہ وہ اسرائیلی نبی ہے کیونکہ کسی تیسری زبان نے کبھی اس لفظ کو استعمال نہیں کیا۔ بلاشبہ اس اشتراک کا صرف دوزبانوں اور دو قوموں میں تخصیص ہونا لازمی ہے۔ مگر بوجہ ختم نبوت اسلامی قوم اس سے باہر نکل گئی۔ لہذا صفائی سے یہ بات طے ہوگئی کہ یہ نبی اسرائیلی نبی ہے۔ پھر اس کے بعد تو اثر تاریخی سے یہ ثابت ہو جانا کہ یہ نبی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گذرا ہے پہلی دلیل پر اور بھی یقین کا رنگ چڑھاتا ہے اور زیرک دلوں کو زور کے ساتھ اس طرف لے آتا ہے کہ یہ نبی بقیه حاشیه ملکوں میں آگئے تھے۔ سواسی غرض کی تکمیل کے لئے وہ اس ملک میں تشریف لائے ۔ ڈاکٹر بر نیر صاحب فرانسیسی اپنے سفر نامہ میں لکھتے ہیں کہ کئی انگریز محققوں نے اس رائے کو بڑے زور کے ساتھ ظاہر کیا ہے کہ کشمیر کے مسلمان باشندے دراصل اسرائیلی ہیں جو تفرقہ کے وقتوں میں اس ملک میں آئے تھے۔ اور اُن کے کتابی چہرے اور لمبے گرتے اور بعض رسوم اس بات کے نوٹ : نبی کا لفظ صرف دوزبانوں سے مخصوص ہے اور دنیا کی کسی اور زبان میں یہ لفظ مستعمل نہیں ہوا یعنی ایک تو عبرانی میں یہ لفظ نبی آتا ہے اور دوسری عربی میں۔ اس کے سوا تمام دنیا کی اور زبا نہیں اس لفظ سے کچھ تعلق نہیں رکھتیں۔ لہذا یہ لفظ جو یوز آسف پر بولا گیا کتبہ کی طرح گواہی دیتا ہے کہ یہ شخص یا اسرائیلی نبی ہے یا اسلامی نبی مگرختم نبوت کے بعد اسلام میں کوئی اور نبی نہیں آسکتا لہذا متعین ہوا کہ میا اسرائیلی نبی ہے۔ اب جو مدت بتلائی گئی ہے اُس پر غور کر کے قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے کہ یہ حضرت عیسی علیہ السلام ہیں اور وہی شہزادہ کے نام سے پکارے گئے ہیں ۔ منہ