رازِ حقیقت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 550

رازِ حقیقت — Page 157

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۵۷ راز حقیقت خدا تم سے راضی ہو حالانکہ تمہارے دل میں اُس سے زیادہ کوئی اور عزیز بھی ہے ۔ اس کے کی راہ میں فدا ہو جاؤ اور اس کے لئے محو ہو جاؤ اور ہمہ تن اس کے ہو جاؤ ۔ اگر چاہتے ہو کہ اسی دنیا میں خدا کو دیکھ لو ۔ کرامت کیا چیز ہے؟ اور خوارق کب ظہور میں آتے ہیں؟ سو سمجھو اور یاد رکھو کہ دلوں کی تبدیلی آسمان کی تبدیلی کو چاہتی ہے ۔ وہ آگ جو اخلاص کے ساتھ بھڑکتی ہے وہ عالم بالا کو نشان کی صورت پر دکھلاتی ہے ۔ تمام مومن اگر چہ عام طور پر ہر ایک بات میں شریک ہیں یہاں تک کہ ہر ایک کو معمولی حالت کی خواہیں بھی آتی ہیں اور بعض کو الہام بھی ہوتے ہیں لیکن وہ کرامت جو خدا کا جلال اور چمک اپنے ساتھ رکھتی ہے اور خدا کو دکھلا دیتی ہے وہ خدا کی ایک خاص نصرت ہوتی ہے جو ان بندوں کی عزت زیادہ کرنے کے لئے ظاہر کی جاتی ہے جو حضرت احدیت میں جان نثاری کا مرتبہ رکھتے ہیں جب کہ وہ دنیا میں ذلیل کئے جاتے اور اُن کو برا کہا جاتا اور کذاب اور مفتری اور بدکار اور لعنتی اور دجال اور ٹھگ اور فریبی ان کا نام رکھا جاتا ہے اور اُن کے تباہ کرنے کے لئے کوششیں کی جاتی ہیں تو ایک حد تک وہ صبر کرتے اور اپنے آپ کو تھامے رہتے ہیں ۔ پھر خدا تعالیٰ کی غیرت چاہتی ہے کہ اُن کی تائید میں کوئی نشان دکھاوے تب یکدفعہ اُن کا دل دکھتا اور ان کا سینہ مجروح ہوتا ہے تب وہ خدا تعالیٰ کے آستانہ بقیه حاشیه یہودیوں کی دست درازی کا کھٹکا دُور نہیں ہو سکتا تھا بلکہ یہ قصہ سرا سرا فسانہ کے رنگ میں بنایا گیا ہے ۔ اور قرآن کریم کے صریح مخالف اور نہایت زبر دست دلائل سے جھوٹا ثابت ہوتا ہے ۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ صلیبی واقعہ کی اصل حقیقت شناخت کرنے کے لئے مرہم عیسی ایک علمی ذریعہ اور اعلیٰ درجہ کا معیار حق شناسی ہے اور اس واقعہ سے پورے طور پر مجھے اس لئے واقفیت ہے کہ میں ایک انسان خاندان طبابت میں سے ہوں اور میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضی مرحوم جو اس ضلع کے ایک معزز رئیس تھے ایک اعلیٰ درجہ کے تجربہ کار طبیب تھے جنہوں نے قریباً ساٹھ سال اپنی عمر کے اس تجربہ میں بسر کئے تھے اور جہاں تک