رازِ حقیقت — Page 156
روحانی خزائن جلد ۱۴ راز حقیقت صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کمزوری کی حالت میں مکہ میں ظاہر ہوئے تھے اور ان دنوں میں ابو جہل وغیرہ کفار کا کیا کچھ عروج تھا اور لاکھوں آدمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن جانی ہو گئے تھے تو پھر کیا چیز تھی جس نے انجام کار ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح اور ظفر بخشی ۔ یقیناً سمجھو کہ یہی راستبازی اور صدق اور پاک باطنی اور سچائی تھی ۔ سو بھائیو! اس پر قدم مارو اور اس گھر میں بہت زور کے ساتھ داخل ہو۔ پھر عنقریب دیکھ لو گے کہ خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ وہ خدا جو آنکھوں سے پوشیدہ مگر سب چیزوں سے زیادہ چمک رہا ہے جس کے جلال سے فرشتے بھی ڈرتے ہیں۔ وہ شوخی اور چالا کی کو پسند نہیں کرتا اور ڈرنے والوں پر رحم کرتا ہے سو اس سے ڈرو اور ہر ایک بات سمجھ کر کہو ۔ تم اُس کی جماعت ہو جن کو اُس نے نیکی کا نمونہ دکھانے کے لئے چنا ہے ۔ سو جو شخص بدی نہیں چھوڑتا اور اُس کے لب جھوٹ سے اور اُس کا دل ناپاک خیالات سے پر ہیز نہیں کرتا وہ اس جماعت سے کاٹا جائے گا۔ اے خدا کے بندو دلوں کو صاف کرو اور اپنے اندرونوں کو دھو ڈالو تم نفاق اور دورنگی سے ہر ایک کو راضی کر سکتے ہومگر خدا کو اس خصلت سے غضب میں لاؤ گے اپنی جانوں پر رحم کرو اور اپنی ذریت کو ہلاکت سے بچاؤ۔ کبھی ممکن ہی نہیں کہ بقیه حاشیه آسمان پر پہنچا دیا تھا سراسر لغو خیال معلوم ہوتا ہے ۔ کیونکہ خدا کے اس فعل سے یہودیوں پر کوئی حجت پوری نہیں ہوتی ۔ یہودیوں نے نہ تو آسمان پر چڑھتے دیکھا اور نہ آج تک اتر تے دیکھا۔ پھر وہ اس مہمل اور بے ثبوت قصے کو کیونکر مان سکتے ہیں ۔ ماسوا اس کے یہ بھی سوچنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کریم حضرت سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے حملہ کے وقت جو یہودیوں کی نسبت زیادہ بہادر اور جنگ جو اور کینہ ور تھے صرف اسی غار کی پناہ میں بچا لیا جو مکہ معظمہ سے تین میل سے زیادہ نہ تھی تو کیا نعوذ باللہ خدا تعالی کو بزدل یہودیوں کا کچھ ایسا خوف تھا کہ بجز دوسرے آسمان پر پہنچانے کے اُس کے دل میں