قادیان کے آریہ اور ہم — Page 464
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۶۰ قادیان کے آریہ اور ہم اعلان یا در ہے کہ اس رسالہ کے شائع کرنے کی ہمیں کچھ بھی ضرورت نہ تھی لیکن ایک گندی اخبار جو قادیان سے آریوں کی طرف سے نکلتی ہے جس میں ہمیشہ وہ لوگ تو ہین اور بد زبانی کر کے اور دین اسلام کی نسبت اپنی فطرتی عداوت کی وجہ سے ناشائستہ کلمات بول کر اور ساتھ ہی مجھ کو بھی گالیاں دے کر لیکھرام کے قائم مقام ہورہے ہیں ان کی اخبار نے ہمیں مجبور کیا کہ ان کے جھوٹے الزاموں کو اس رسالہ میں ہم دُور کر دیں اور ثابت کریں کہ ان کے بھائی لالہ شرمیت اور لالہ ملا وامل ساکنان قادیان در حقیقت میرے بہت سے نشانوں کے گواہ ہیں۔ اور ان پر کیا حصر ہے تمام قادیان کے آریہ اور ہندو بعض نشانوں کے گواہ رؤیت ہیں۔ اور پھر قادیان پر ہی موقوف نہیں لیکھرام کے مارے جانے کی پیشگوئی ایک ایسی مہاں جال پیشگوئی ہے جس نے تمام پنجاب اور ہندوستان کے ہندو اور آریہ سماج والے اس عظیم الشان نشان کے گواہ کر دیئے ہیں۔ اب ان پیشگوئیوں سے انکار کرنا آریوں کے لئے ممکن نہیں اور اس بارے میں قلم اُٹھانا محض بے حیائی ہے اور اگر وہ اس قدر پر باز نہ آئے تو پھر ان کا تمام پر وہ کھول دیا جائے گا۔ والسلام على من اتبع الهدى ر میرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیان