قادیان کے آریہ اور ہم — Page 463
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۵۹ قادیان کے آریہ اور ہم گو ہیں بہت درندے انسان کے پوستیں میں پاکوں کا خوں جو پیوے وہ بھیڑ یا یہی ہے کس دیں پہ ناز اُن کو جو ویڈ کے ہیں حامی مذہب جو پھل سے خالی وہ کھوکھلا یہی ہے اے آر یو یہ کیا ہے کیوں دل بگڑ گیا ہے ان شوخیوں کو چھوڑو راہِ حیا یہی ہے مجھ کو ہو کیوں ستاتے سو افترا بناتے بہتر تھا باز آتے دور از بلا یہی ہے جس کی دعا سے آخر لیکھو مرا تھا کٹ کر ماتم پڑا تھا گھر گھر وہ میرزا یہی ہے پنڈت لیکھرام اچھا نہیں ستانا پاکوں کا دل دُکھانا گستاخ ہوتے جانا اس کی جزا یہی ہے اس دیس کی شان و شوکت یا رب مجھے دکھا دے سب جھوٹے دیں مٹادے میری دعا یہی ہے کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے تمام شد یاد رہے کہ وید پر ہمارا کوئی حملہ نہیں ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کی تفسیر میں کیا کیا تصرف کئے گئے آریہ ورت کے صد ہامذ ہب اپنے عقائد کا ویدوں پر ہی انحصار رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور با ہم اُن کا سخت اختلاف ہے۔ پس ہم اس جگہ وید سے مراد صرف آریہ سماج والوں کی شائع کردہ تعلیمیں اور اصول لیتے ہیں۔ منہ نوٹ :۔ ایڈیشن اول میں یہ حاشیہ تو موجود ہے لیکن اس شعر کی نشان دہی نہیں کی گئی جس پر یہ نے مضمون کو دیکھ کر یہ نشان لگایا ہے۔ (ناشر)