قادیان کے آریہ اور ہم — Page 462
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۵۸ قادیان کے آریہ اور ہم اس رہ میں اپنے قصے تم کو میں کیا سناؤں دکھ درد کے ہیں جھگڑے سب ماجرا یہی ہے دل کر کے پارہ پارہ چاہوں میں اک نظارہ دیوانہ مت کہو تم عقل رسا یہی ہے اے میرے یار جانی کر خود ہی مہربانی مت کہہ کہ لَنْ تَرَانِی تجھ سے رجا یہی ہے فرقت بھی کیا بنی ہے ہر دم میں جان کنی ہے عاشق جہاں پہ مرتے وہ کربلا یہی ہے تیری وفا ہے پوری ہم میں ہے عیب دوری طاعت بھی ہے ادھوری ہم پر بلا یہی ہے تجھ میں وفا ہے پیارے بچے ہیں عہد سارے ہم جا پڑے کنارے جائے بکا یہی ہے ہم نے نہ عہد پالا یاری میں رخنہ ڈالا پر تو ہے فضل والا ہم پر کھلا یہی ہے اے میرے دل کے درماں ہجراں ہے تیرا سوزاں کہتے ہیں جس کو دوزخ وہ جاں گزا یہی ہے اک دیں کی آفتوں کا غم کھا گیا ہے مجھ کو سینہ پر دشمنوں کے پتھر بڑا یہی ہے کیونکر تہ وہ ہووے کیونکر فنا وہ ہووے ظالم جو حق کا دشمن وہ سوچتا یہی ہے ایسا زمانہ آیا جس نے غضب ہے ڈھایا جو پیستی ہے دیں کو وہ آسیا یہی ہے شادابی و لطافت اس دیں کی کیا کہوں میں سب خشک ہو گئے ہیں پھولا پھلا یہی ہے آنکھیں ہر ایک دیں کی بے نور ہم نے پائیں سرمہ سے معرفت کے اک سرمہ سا یہی ہے لعلِ یمن بھی دیکھے دُر عدن بھی دیکھے سب جو ہروں کو دیکھا دل میں جچا یہی ہے انکار کر کے اس سے پچھتاؤ گے بہت تم بنتا ہے جس سے سونا وہ کیمیا یہی ہے پر آریوں کی آنکھیں اندھی ہوئی ہیں ایسی وہ گالیوں پہ اترے دل میں پڑا یہی ہے بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بد زبان ہے جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے