قادیان کے آریہ اور ہم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 455 of 597

قادیان کے آریہ اور ہم — Page 455

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۵۱ قادیان کے آریہ اور ہم خاوند غفلت پہ غافلوں کی روتے رہے ہیں مرسل پر اس زماں میں لوگو نوحہ نیا یہی ہے ہم بد نہیں ہیں کہتے اُن کے مقدسوں کو تعلیم میں ہماری حکم خدا یہی ہے ہم کو نہیں سکھاتا وہ پاک بد زبانی تقوی کی جڑھ یہی ہے صدق وصفا یہی ہے پر آریوں کے دیں میں گالی بھی ہے عبادت کہتے ہیں سب کو جھوٹے کیا اتقا یہی ہے جتنے نبی تھے آئے موسیٰ ہو یا کہ عیسی مکار ہیں وہ سارے ان کی ندا یہی ہے اک وید ہے جو سچا باقی کتابیں ساری جھوٹی ہیں اور جعلی اک رہ نما یہی ہے یہ ہے خیال ان کا پر ہٹ بنایا تنکا پر کیا کہیں جب ان کا فہم و ذکا یہی ہے کیڑا جو دب رہا ہے گوبر کی تہ کے نیچے اُس کے گماں میں اُس کا ارض وسما یہی ہے ویدوں کا سب خلاصہ ہم نے نیوگ پایا ان پستکوں کی رو سے کارج بھلا یہی ہے جس استری کو لڑکا پیدا نہ ہو پیا سے ویدوں کی رو سے اُس پر واجب ہوا یہی ہے جب ہے یہی اشارہ پھر اُس سے کیا ہے چارہ جب تک نہ ہوویں گیارہ لڑ کے روا یہی ہے ایشر کے گن عجب ہیں ویدوں میں اے عزیزو! اُس میں نہیں مروت ہم نے سنا یہی ہے دے کر نجات دمکتی پھر چھینتا ہے سب سے کیسا ہے وہ دیالو جس کی عطا یہی ہے ایشر بنا ہے منہ سے خالق نہیں کسی کا روحیں ہیں سب انادی پھر کیوں خدا یہی ہے روحیں اگر نہ ہوتیں ایشر سے کچھ نہ بنتا اُس کی حکومتوں کی ساری پنا یہی ہے اُن کا ہی منہ ہے تکتا ہر کام میں جو چاہے گویا وہ بادشہ ہیں اُن کا گدا یہی ہے القصہ آریوں کے ویدوں کا یہ خدا ہے اُن کا ہے جس پر تکیہ وہ بے نوا یہی ہے اے آریو کہو اب ایشر کے ہیں یہی گن جس پر ہو ناز کرتے بولو وہ کیا یہی ہے؟ ویدوں کو شرم کر کے تم نے بہت چھپایا آخر کو راز بستہ اس کا کھلا یہی ہے (۵۲)