قادیان کے آریہ اور ہم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 456 of 597

قادیان کے آریہ اور ہم — Page 456

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۵۲ قادیان کے آریہ اور ہم قدرت نہیں ہے جس میں وہ خاک کا ہے ایشر کیا دین حق کے آگے زور آزما یہی ہے کچھ کم نہیں بتوں سے یہ ہندوؤں کا ایشر سچ پوچھئے تو واللہ بت دوسرا یہی ہے ہم نے نہیں بنا ئیں یہ اپنے دل سے باتیں ویدوں سے اے عزیز و ہم کو ملا یہی ہے (۵۳) فطرت ہر اک بشر کی کرتی ہے اس سے نفرت پھر آریوں کے دل میں کیونکر بسا یہی ہے یہ حکم وید کے ہیں جن کا ہے یہ نمونہ ویدوں سے آریوں کو حاصل ہوا یہی ہے خوش خوش عمل ہیں کرتے اوباش سارے اس پر سارے نیوگیوں کا اک آسرا یہی ہے پھر کس طرح وہ مانیں تعلیم پاک فرقاں اُن کے تو دل کا رہبر اور مقتدا یہی ہے جب ہو گئے ہیں ملزم اترے ہیں گالیوں پر ہاتھوں میں جاہلوں کے سنگ جفا یہی ہے رکتے نہیں ہیں ظالم گالی سے ایک دم بھی ان کا تو شغل و پیشہ صبح و مسا یہی ہے حاشیه 0 کہنے کو دید والے پر دل ہیں سب کے کالے پردہ اُٹھا کے دیکھو اُن میں بھرا یہی ہے اس جگہ وید کے لفظ سے وہ تعلیم مراد ہے جو آریہ سماج والوں نے اپنے زعم میں ویدوں کے حوالہ سے شائع کی ہے۔ ورنہ یا د رکھنا چاہئے کہ ہم وید کی اصل حقیقت کو خدا کے حوالہ کرتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے اس میں کیا بڑھایا اور کیا گھٹایا جبکہ ہندوستان اور پنجاب میں وید کی پیروی کا دعوی کرنے والے صد با مذہب ہیں تو ہم کسی خاص فرقہ کی غلطی کو وید پر کیونکر تھوپ سکتے ہیں ۔ پھر یہ بھی ثابت ہے کہ وید بھی محرف ہو چکا ہے۔ پس بوجہ تحریف اس سے کسی بہتری کی امید بھی لا حاصل ہے۔ منہ یادر ہے کہ وید کی تعلیم سے مراد ہماری اس جگہ وہ تعلیمیں اور وہ اصول ہیں جن کو آر یہ لوگ اس جگہ ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نیوگ کی تعلیم وید میں موجود ہے اور بقول ان کے وید بلند آواز سے کہتا ہے کہ جس کے گھر میں کوئی اولاد نہ ہو یا صرف لڑکیاں ہوں تو اس کے لئے یہ ضروری امر ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اجازت دے کہ وہ دوسرے سے ہم بستر ہو اور اس طرح اپنی نجات کے لئے لڑ کا حاصل کرے اور گیارہ لڑکے حاصل کرنے تک یہ تعلق قائم رہ سکتا ہے اور اگر اس کا خاوند کہیں سفر میں گیا ہو اگر ایسے لوگ بھی ان میں ہیں جو خدا کے پاک نبیوں کو گالیاں نہیں دیتے اور صلاحیت اور شرافت رکھتے ہیں وہ ہمارے اس بیان سے باہر ہیں۔ منہ