قادیان کے آریہ اور ہم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 438 of 597

قادیان کے آریہ اور ہم — Page 438

۴۳۴ قادیان کے آریہ اور ہم روحانی خزائن جلد ۲۰ بداثر ہے اس لئے میں اول تو لالہ شرمیت اور ملاوامل کو مخاطب کرتا ہوں کہ وہ خدا کی قسم کے ساتھ مجھ سے فیصلہ کر لیں ۔ اور خواہ مقابل پر اور خواہ تحریر کے ذریعہ سے۔ اس طرح پر خدا کی قسم کھا ئیں کہ فلاں فلاں نشان جو نیچے لکھے گئے ہیں ہم نے نہیں دیکھے اور اگر ہم جھوٹ بولتے ہیں تو خدا ہم پر اور ہماری اولاد پر اس جھوٹ کی سزا نازل کرے ۔ اور وہ نشان آسمانی بہت سے ہیں جو براہین احمدیہ میں لکھے گئے ہیں۔ لیکن اس قسم کے لئے سب نشانوں کے لکھنے کی ضرورت نہیں۔ (۱) لالہ شرمیت کے لئے یہ کافی ہے کہ اول تو اس نے میرا وہ زمانہ دیکھا جبکہ وہ میرے ساتھ اکیلا چند دفعہ امرتسر گیا تھا اور نیز براهین احمدیہ کے چھپنے کے وقت وہ میرے ساتھ ہی پادری رجب علی کے مکان پر کئی دفعہ گیا۔ وہ خوب جانتا ہے کہ اس وقت میں ایک گمنام آدمی تھا۔ میرے ساتھ کسی کو تعلق نہ تھا۔ اور اس کو خوب معلوم ہے کہ براہین احمدیہ (۲۵) کے چھپنے کے زمانہ میں یعنی جبکہ یہ پیشگوئی ایک دنیا کے رجوع کرنے کے بارے میں براہین احمدیہ میں درج ہو چکی تھی میں صرف اکیلا تھا۔ تو اب قسم کھاوے کہ کیا یہ پیشگوئی اُس نے پوری ہوتی دیکھ لی یا نہیں؟ اور قسم کھا کر کہے کہ کیا اُس کے نزدیک یہ کام انسان سے ہو سکتا ہے کہ اپنی ناداری اور گمنامی کے زمانہ میں دنیا کے سامنے قطعی اور یقینی طور پر یہ پیشگوئی پیش کرے کہ خدا نے مجھے فرمایا ہے کہ تیرے پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ تو گمنام نہیں رہے گا۔ لاکھوں انسان تیری طرف رجوع کریں گے اور کئی لاکھ روپیہ تجھے آئے گا اور قریباً تمام دنیا میں عزت کے ساتھ تو مشہور کیا جائے گا۔ اور پھر اس پیشگوئی کو خدا پوری کر دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اُس نے مجھ پر افترا کیا ہے اور جھوٹ بولا ہے اور جھوٹ کی نجاست کھائی ہے اور نیز خدا اپنی پیشگوئیوں کے موافق ہر ایک مزاحم کو نامرا در کھے۔ اور لالہ شرمیت قسم کھا کر کہے کہ کیا اس نے یہ پیشگوئی پوری ہوتی دیکھ لی یا نہیں؟ اور کیا اس کے پاس کوئی ایسی نظیر ہے کہ کسی جھوٹے نے خدا کا نام لے کر ایسی پیشگوئی کی ہو اور وہ پوری ہو گئی ہوا اور چاہیے کہ اس نظیر کو پیش کرے۔