قادیان کے آریہ اور ہم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 437 of 597

قادیان کے آریہ اور ہم — Page 437

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۳۳ قادیان کے آریہ اور ہم اُن نا پاک طبع اور دنیا کے کیڑوں کی طرح مداہنہ نہیں کر سکتے جو کہتے ہیں کہ ہم ان تمام لوگوں کو محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگر اُن کے باپوں کو گالیاں دی جاتیں تو ایسا ہر گز نہ کہتے ۔ خدا ان کا اور ہمارا فیصلہ کرے۔ یہ عجیب مذہب ہے۔ کیا اس قوم سے کسی بھلائی کی امید ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں ۔ یہ لوگ اسلام بلکہ تمام نبیوں کے خطرناک دشمن ہیں ۔ ان کے گالیوں کے بھرے ہوئے رسالے ہمارے پاس موجود ہیں۔ اب ہم اپنے اصل مقصود کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ قادیان کے آریہ اخبار میں جولالہ شرمیت برادر لالہ بسمبر داس کے حوالہ سے لکھا گیا ہے کہ ہم نے کوئی نشان آسمانی اس راقم کا نہیں دیکھا۔ یہ اس قسم کا جھوٹ ہے کہ اگر کوئی انسان گندی سے گندی نجاست (۲۳) کھالے تو ایسی نجاست کھانا بھی اس جھوٹ سے کمتر ہے۔ ان باتوں کو سن کر یقین آتا ہے کہ اس قدر جھوٹ بولنے والے کو اپنے پر میشر پر ایمان نہیں اور وہ ہرگز نہیں ڈرتا کہ جھوٹ کا کوئی بُرا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ چونکہ میں نے کئی کتابوں میں لالہ شرمیت اور لالہ ملا وامل ساکنان قادیان کی نسبت لکھ دیا ہے کہ انہوں نے فلاں فلاں آسمانی نشان میرے دیکھے ہیں بلکہ بیسیوں نشان دیکھے ہیں اور وہ کتابیں آج تک کروڑ ہا انسانوں میں شائع ہو چکی ہیں ۔ پس اگر انہوں نے مجھ سے آسمانی نشان نہیں دیکھے تو اس صورت میں مجھ سے زیادہ دنیا میں کون جھوٹا ہوگا اور میرے جیسا کون نا پاک طبع اور مفتری ہوگا جس نے محض افترا اور جھوٹ کے طور پر ان کو اپنے نشانوں کا گواہ قرار دے دیا۔ اور اگر میں اپنے دعوے میں سچا ہوں تو ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اس سے بڑھ کر میری اور کیا بے عزتی ہوگی کہ ان لوگوں نے اخباروں اور اشتہاروں کے ذریعہ سے مجھے جھوٹا اور افتر ا کرنے والا قرار دیا۔ دور کے لوگ کیا جانتے ہیں کہ اصلیت کیا ہے بلکہ اس عداوت کی وجہ سے کہ جوا کثر لوگوں کی میرے ساتھ ہے ان لوگوں کو سچا سمجھیں گے اور گھر کی گواہی خیال (۲۴) کریں گے اور اس طرح پر اور بھی اپنی عاقبت خراب کر لیں گے ۔ پس چونکہ میں اس بے عزتی کو برداشت نہیں کر سکتا اور نیز اس سے خدا کے قائم کردہ سلسلہ پر نہایت