قادیان کے آریہ اور ہم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 436 of 597

قادیان کے آریہ اور ہم — Page 436

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۳۲ قادیان کے آریہ اور ہم اپنے پاک اور بزرگ نبیوں کی نسبت ان گالیوں کو سنے اور پھر صلح کرلے؟ ہر گز نہیں۔ پس ان لوگوں کے ساتھ صلح کرنا ایسا ہی مضر ہے جیسا کہ کاٹنے والے زہریلے (۲۱) سانپ کو اپنی آستین میں رکھ لینا۔ یہ قوم سخت سیہ دل قوم ہے جو تمام پیغمبروں کو جو دنیا میں بڑی بڑی اصلاحیں کر گئے مفتری اور کذاب سمجھتے ہیں۔ نہ حضرت موسیٰ ان کی زبان سے بیچ سکے نہ حضرت عیسی اور نہ ہمارے سید و مولی جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے سب سے زیادہ دنیا میں اصلاح کی۔ جن کے زندہ کئے ہوئے مُردے اب تک زندہ ہیں ۔ خدا جو غائب ہے اُس کی ذات کا ثبوت صرف ایک گواہی سے کیونکر مل سکتا ہے اس لئے خدا نے دنیا میں ہر ایک قوم میں ہر ایک ملک میں ہزاروں نبی پیدا کئے اور وہ ایسے وقتوں میں آئے کہ جبکہ زمین لوگوں کے گنا ہوں سے پلید ہو چکی تھی ۔ انہوں نے بڑے نشانوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے وجود کا ثبوت دیا اور اُس کی عظمت دلوں میں بٹھائی اور نئے سرے زمین کو زندہ کیا مگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ بجز وید کے کوئی کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوئی ۔ اور تمام نبی جھوٹے تھے اور ان کا تمام دور مکر اور فریب کا دور تھا۔ حالانکہ وید اب تک آریہ ورت کو شرک اور ۲۲ بت پرستی اور آتش پرستی سے صاف نہیں کر سکا۔ غرض یہ لوگ اُن نبیوں کی تکذیب میں جن کی سچائی سورج کی طرح چمکتی ہے حد سے بڑھ گئے ہیں۔ خدا جو اپنے بندوں کے لئے غیرت مند ہے ضرور اس کا فیصلہ کرے گا۔ وہ ضرور اپنے پیارے نبیوں کے لئے کوئی ہاتھ دکھلائے گا ۔ ہم ان لوگوں پر کوئی ظلم نہیں کرتے ۔ وہ ہم پر ظلم کرتے ہیں ۔ ہم ان کو دعا دیتے ہیں وہ ہمیں تیر مارتے ہیں اور خدائے عزوجل کی قسم ہے کہ اگر یہ لوگ تلوار کے زخم سے ہمیں مجروح کرتے تو ہمیں ایسا ناگوار نہ ہوتا جیسا کہ ان کی ان گالیوں سے جو ہمارے برگزیدہ نبیوں کو دیتے ہیں ہمارے دل پاش پاش ہو گئے ۔ ہم یہ گالیاں سن کر